پاکستان قونصلیٹ دبئی نے متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے پاکستانی محنت کشوں کے لیے ایک اہم معلوماتی ویڈیو جاری کی ہے جس میں مقامی لیبر قوانین کے تحت ان کے قانونی حقوق اور ذمہ داریوں کو واضح انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی شہری اس وقت تک کام شروع نہ کرے جب تک اسے باضابطہ ورک پرمٹ حاصل نہ ہو جس کا تمام تر خرچ کفیل یعنی آجر کے ذمے ہوگا۔

اماراتی قوانین کے مطابق ملازمت کا معاہدہ عام طور پر دو سال کا ہوتا ہے اور اس پر آجر اور ملازم دونوں کے دستخط ضروری ہوتے ہیں پروبیشن کی مدت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ مقرر ہے اس دوران اگر آجر معاہدہ ختم کرنا چاہے تو اسے 14 دن پہلے اطلاع دینا ہوگی جبکہ ملازم کو 30 دن کا نوٹس دینا لازم ہوگا اگر کوئی ملازم بغیر اطلاع دیے نوکری چھوڑ دے تو اس پر ایک سال تک متحدہ عرب امارات میں دوبارہ کام کرنے پر پابندی لگ سکتی ہے۔

قانون کے مطابق کام کے اوقات روزانہ آٹھ گھنٹے یا ہفتہ وار 48 گھنٹے مقرر کیے گئے ہیں پانچ گھنٹے کام کے بعد وقفہ دینا ضروری ہے رمضان کے دوران روزانہ چھ گھنٹے کام ہوگا اگر کوئی ملازم اوور ٹائم کرتا ہے تو عام دنوں میں اسے 25 فیصد اضافی جبکہ رات کے وقت یا ہفتہ وار تعطیل کے دنوں میں کام پر 50 فیصد اضافی معاوضہ دیا جائے گا۔


تنخواہوں کے بارے میں واضح کیا گیا ہے کہ انہیں بروقت ادا کیا جانا چاہیے اور بہتر ہے کہ ادائیگی براہ راست ملازم کے بینک اکاؤنٹ میں کی جائے ملازمین کو سال میں 30 دن کی سالانہ رخصت 90 دن تک بیماری کی چھٹی 60  دن زچگی کی چھٹی پانچ دن پدری رخصت اور تین سے پانچ دن تک تعزیتی رخصت کا حق حاصل ہے۔

گریجویٹی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایک سے پانچ سال تک کام کرنے والوں کو ہر سال کے بدلے 21 دن کی تنخواہ جبکہ پانچ سال سے زائد سروس پر ہر سال کے بدلے 30 دن کی تنخواہ بطور گریجویٹی دی جائے گی ایک سال سے کم سروس پر گریجویٹی نہیں دی جاتی۔

استعفیٰ دینے کی صورت میں ملازم کو پیشگی اطلاع دینا لازمی ہے تاہم اگر آجر تنخواہ نہ دے یا کام کی جگہ محفوظ نہ ہو تو ملازم فوری استعفیٰ دے سکتا ہے۔

قانون کے تحت آجر کے لیے ملازم کا پاسپورٹ اپنے قبضے میں رکھنا منع ہے جبکہ صحت انشورنس رہائش اور بلیو کالر ملازمین کے لیے وطن واپسی کا فضائی ٹکٹ فراہم کرنا آجر کی ذمہ داری ہے۔

ملازم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایمانداری سے کام کرے اور بغیر اجازت کسی دوسرے آجر کے لیے کام نہ کرے۔

واضع رہے کہ اگر کسی ملازم کو تنخواہ گریجویٹی یا پاسپورٹ سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ تسہیل سینٹر سے رجوع کر سکتا ہے جہاں سب سے پہلے وزارت انسانی وسائل و اماراتائزیشن شکایت کا جائزہ لے گی اور اگر مسئلہ حل نہ ہو تو اسے عدالت میں بھیجا جا سکتا ہے۔