جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ضلع بٹگرام کے حالات انتہائی خراب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاکھوں کی آبادی میں تقریباً 75 ہزار بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ علاقے میں وڈیروں اور جاگیرداروں کی اجارہ داری قائم ہے۔ ان کے مطابق طاقتور طبقہ اپنے مفادات کے لیے پارٹیاں تبدیل کرتا ہے اور عوام کے حقوق کو نظر انداز کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بٹگرام میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ اسپتالوں کی کمی ہے، کئی علاقوں میں بجلی موجود نہیں اور جہاں ہے وہاں بھی طویل لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔ گیس کی سہولت بھی دستیاب نہیں، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے عدالتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غریب کے لیے انصاف کے دروازے بند ہیں۔ ان کے مطابق ملک بھر میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں اور متوسط طبقہ عدالتوں میں کیس لڑتے لڑتے مالی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بٹگرام میں تقریباً 44 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ تعلیمی نظام بھی تباہ حال ہے اور ریٹائرڈ ملازمین پنشن کے حصول کے لیے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی عام لوگوں کی جماعت ہے اور اس میں ہر طبقے کے لیے دروازے کھلے ہیں۔ یہ ایک ایسی تحریک ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 49 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ ان کے مطابق آئی پی پیز کو کیپسٹی چارجز کی مد میں فائدہ پہنچایا جا رہا ہے جبکہ گیس پلانٹس کے معاہدے بھی عوامی مفاد کے خلاف ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب نئی قیادت اور نیا نظام درکار ہے تاکہ عوام کو بنیادی حقوق اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔