آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے سات انڈین حمایت یافتہ خوارج کو ہلاک کر دیا۔ تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں بہادر مڈیکل افسر کیپٹن نعمان سلیم (24 سال، رہائشی ضلع میانوالی) شہید ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن نعمان نہ صرف طبی امداد فراہم کر رہے تھے بلکہ انہوں نے دشمن کے خلاف بہادری سے مقابلہ بھی کیا۔

 آی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق کیپٹن نعمان کے ساتھ پانچ دیگر جوان بھی شہید ہوئے ہیں جن میں حوالدار امجد علی، صوابی، عمر 39 ،نائیک وقاص احمد، راولپنڈی، عمر 36، سپاہی اعجاز علی، شکارپور، عمر 23 ، سپاہی محمد ولید، جہلم، عمر 23 اور سپاہی محمد شہباز، خیرپور، عمر 32 سال شامل ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ خوارج کے باقی عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے تیار کردہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے مطابق ملک سے غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپنی انسدادِ دہشت گردی مہم پوری قوت سے جاری رکھیں گی۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان سے متصل صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی کے ساتھ ہی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

آج صبح بھی سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ کے نواحی علاقے چلتن کے پہاڑی سلسلوں میں کارروائی کرتے ہوئے 10 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ کاروائی کالعدم تنظیم کے کیمپوں کے خلاف کی گئی، مارے گئے تمام افراد کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔