رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار پنجاب پولیس سے "حقِ معلومات"  کے تحت حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ فیکٹ شیٹ میں خواتین کے خلاف چھ سنگین اقسام کے تشدد، جنسی زیادتی، گھریلو تشدد، اغوا، غیرت کے نام پر قتل، ٹریفکنگ، سائبر ہراسگی اور عمومی ہراسگی کے کیسز شامل ہیں۔ ساتھ ہی زیرِ تفتیش، چالان شدہ، زیرِ سماعت، سزا یافتہ، بری اور واپس لیے گئے مقدمات کی صورتحال بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔

رپورٹ میں اضلاع کا موازنہ ہر ایک لاکھ بالغ خواتین کی آبادی کے تناسب سے کیا گیا ہے، تاکہ جرائم کے حقیقی پھیلاؤ کو درست طور پر سمجھا جا سکے۔

فیکٹ شیٹ کے مطابق صوبے میں رپورٹنگ میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے، تاہم کئی کیسز اب بھی پولیس ڈیٹا میں شامل نہیں کیے جاتے جس سے غلط معلومات پھیلتی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں روزانہ اوسطاً 9 خواتین کے ساتھ زیادتی، 51 خواتین کے اغوا اور 24 خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

ایس ایس ڈی او کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار نہ صرف تشدد کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ انصاف کے نظام اور سماجی رویّوں میں موجود ان خامیوں کی بھی عکاسی کرتے ہیں جو خواتین کے تحفظ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ جرائم رپورٹ ہوئے، جن میں زیادتی کے 340، اغوا کے 3018 اور گھریلو تشدد کے 2115 کیسز شامل ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں بھی لاہور نمایاں اضلاع میں شامل ہے۔ دیگر شدید متاثرہ اضلاع میں ملتان، گجرانوالہ، سیالکوٹ، قصور، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ننکانہ صاحب شامل ہیں۔

سائبر ہراسگی کے کیسز صرف پانچ اضلاع اوکاڑہ، شیخوپورہ، لیہ، پاکپتن اور گجرات میں رپورٹ ہوئے۔ ایس ایس ڈی او کے مطابق اس کی وجہ کم رپورٹنگ اور ڈیجیٹل شکایتی نظام تک غیر مساوی رسائی ہے۔ خواتین کی ٹریفکنگ کے مقدمات میں مظفرگڑھ اور پاکپتن سرفہرست رہے۔

فیکٹ شیٹ کے مطابق بہاولنگر، بہاولپور، چکوال، چنیوٹ، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، حافظ آباد، نارووال، رحیم یار خان، راجن پور، راولپنڈی، ساہیوال، سرگودھا سمیت متعدد اضلاع نے پنجاب انفارمیشن کمیشن کی واضح ہدایات کے باوجود مطلوبہ ڈیٹا فراہم نہیں کیا، حالانکہ یہ معلومات قانون کے تحت عوام کے لیے قابلِ رسائی ہونی چاہیے تھیں۔

ایس ایس ڈی او نے کہا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے مکمل ڈیٹا فراہم نہ کرنے سے نہ صرف شفافیت متاثر ہوتی ہے بلکہ خواتین پر تشدد کے حقیقی حجم کو سمجھنے میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

تنظیم نے زور دیا کہ خواتین پر تشدد کے مسئلے سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے رپورٹنگ سسٹم کی بہتری، پولیس کی تفتیشی صلاحیتوں میں اضافہ، عدالتی عمل میں تیزی اور متاثرہ خواتین کے لیے معاون خدمات کا دائرہ وسیع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 تنظیم کے مطابق شفاف ڈیٹا، مضبوط احتسابی نظام اور کمیونٹی سطح پر آگاہی سے ہی اس بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔