امریکی ٹیکنالوجی اسٹاکس پر مشتمل نیس ڈیک انڈیکس جمعرات کو 5.5 فیصد گر گیا، جو اپریل 2025 کے بعد اس کی ایک روزہ سب سے بڑی کمی ہے۔ اس گراوٹ کے نتیجے میں انڈیکس کی مجموعی مارکیٹ ویلیو سے تقریباً 2.5 کھرب ڈالر کم ہوگئے، جب کہ بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مجموعی مالیت میں بھی بھاری کمی دیکھی گئی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق Nvidia سمیت کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں 9 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، جب کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کی مارکیٹ ویلیو میں بھی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

امریکی مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ جمعے کو ایشیائی مارکیٹوں تک پھیل گیا، جہاں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں زیادہ گراوٹ دیکھی گئی۔

جاپان کا نکی 225 انڈیکس 6 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس بھی 6 فیصد نیچے آگیا۔ دورانِ کاروبار کوسپی میں 8 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، جس کے بعد شدید فروخت روکنے کے لیے عارضی طور پر ٹریڈنگ معطل کرنا پڑی۔

تائیوان کا اہم اسٹاک انڈیکس بھی 4.5 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔ دوسری جانب یورپی مارکیٹوں میں بھی منفی رجحان رہا، جہاں برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس 1.6 فیصد اور جرمنی کا ڈیکس انڈیکس 1.3 فیصد نیچے آیا۔

مارکیٹوں میں اس گراوٹ کی ایک بڑی وجہ امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو قرار دیا جارہا ہے۔ ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے، جس کے بعد خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ کانگریس میں ان کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اے آئی کے لیے نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کی رفتار سست کرسکتا ہے۔

انتخابی مہم کے دوران متعدد ڈیموکریٹ امیدواروں نے ڈیٹا سینٹرز کی تیز رفتار توسیع پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان منصوبوں سے ماحولیات، مقامی آبادی اور روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ بعض امیدواروں نے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر محدود کرنے اور اے آئی کے شعبے کو مزید ضابطوں کے تابع بنانے کی حمایت بھی کی تھی۔

سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کے اثر و رسوخ سے ڈیٹا سینٹرز کے منصوبوں کی منظوری اور توسیع میں تاخیر ہوسکتی ہے، جس سے اے آئی انڈسٹری میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری متاثر ہونے کا امکان ہے۔

مارکیٹ میں گراوٹ کی دوسری بڑی وجہ اے آئی کے شعبے میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کے مستقبل سے متعلق خدشات ہیں۔ گوگل، ایمیزون اور میٹا جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی سسٹمز چلانے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز تعمیر کررہی ہیں، جن کے لیے سیمی کنڈکٹر اور میموری چپس سمیت جدید ٹیکنالوجی درکار ہے۔

سرمایہ کار اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ان منصوبوں پر خرچ ہونے والی خطیر رقم سے منافع کب حاصل ہوگا اور آیا یہ سرمایہ کاری توقعات کے مطابق مالی نتائج دے بھی سکے گی یا نہیں۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق ایشیائی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس صورت حال سے متاثر ہوسکتی ہیں، کیونکہ جنوبی کوریا، جاپان اور تائیوان کی کمپنیاں عالمی اے آئی انڈسٹری کے لیے چپس اور دیگر اہم پرزے تیار کرتی ہیں۔

جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائچی نے کہا ہے کہ حکومت اے آئی اور چپ بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں ہونے والی شدید گراوٹ پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مضبوط معیشت کی تشکیل کے لیے اقدامات پر توجہ دے گی۔

جنوبی کوریا کے وزیر خزانہ لی ہیونگ اِل نے بھی امریکی انتخابات کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق عالمی مارکیٹوں پر اثرات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا، اس لیے اسٹاک مارکیٹ میں غیر ضروری ردعمل روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب اوپن اے آئی کے صدر اور شریک بانی گریگ بروک مین نے کہا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے حوالے سے مقامی آبادی کے تحفظات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو متعلقہ کمیونٹیز کے ساتھ رابطہ بڑھانا اور انہیں اپنے منصوبوں کے فوائد سے آگاہ کرنا ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کا ذمہ دار ڈیموکریٹس کی انتخابی کامیابی کو قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی کانگریس میں نئی سیاسی صورت حال، اے آئی انڈسٹری کے مستقبل اور ڈیٹا سینٹرز سے متعلق ممکنہ پالیسی تبدیلیوں کے بارے میں غیر یقینی صورت حال برقرار رہنے تک عالمی مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔