آج ہم جس دوراہنے پر کھڑے ہیں، وہاں اکثر یہ بحث سننے کو ملتی ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ 'قیادت کا بحران' ہے۔ لیکن اگر ذرا گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے، تو بات کچھ اور دکھائی دیتی ہے۔
قیادت آسمان سے نازل نہیں ہوتی، وہ اسی مٹی، اسی معاشرے اور اسی فضا سے جنم لیتی ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم قیادت کے نہیں، بلکہ ایک گہرے 'بحرانِ کردار' کا شکار ہیں، جس نے ہماری بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔
جب کسی معاشرے میں اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل جائے، جہاں سچائی ایک بوجھ اور منافقت ایک ہنر بن جائے، وہاں خیر کی توقع رکھنا ایسا ہی ہے جیسے صحرا میں گلاب کھلنے کی تمنا کرنا۔ ہم نے رفتہ رفتہ اپنے اردگرد ایک ایسا ماحول تخلیق کر لیا ہے جہاں مصلحت کو حکمت کا نام دے دیا گیا ہے اور ضمیر کی آواز کو حماقت سمجھا جاتا ہے۔
اشرافیہ سے لے کر گلی محلوں کے عام دکاندار تک، ایک عجیب سی بے حسی ہے جو ہمارے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے۔ ہم سب دوسروں کی اصلاح کے لیے تو بے چین ہیں، لیکن جب بات اپنے گریبان میں جھانکنے کی آتی ہے، تو ہماری آنکھیں مصلحت کے پردوں کے پیچھے چھپ جاتی ہیں۔
کسی دانا کا قول ہے کہ جب معاشرے کے بڑے چھوٹے ہو جائیں، تو چھوٹے کبھی بڑے نہیں ہو پاتے۔ بڑے ہونے سے مراد قد و قامت یا منصب نہیں، بلکہ ظرف اور کردار کی بلندی ہے۔ آج ہمارے پاس ڈگریوں کی بھرمار ہے، لیکن تہذیب کی شدید کمی ہے۔
ہمارے پاس گفتگو کے لیے چرب زبانی کے دریا بہتے ہیں، لیکن خاموش عمل کی ایک بوند بھی میسر نہیں۔ ہم نے اسلاف کے قصے تو بہت یاد رکھے، ان کی فتوحات پر فخر کرنا تو سیکھا، لیکن ان کے اس کردار کو بھلا دیا جس کی گواہی تاریخ میں اپنے تو کیا، بیگانے بھی دیا کرتے تھے۔
جب کردار کا دیوالیہ نکل جائے، تو پھر ہر ایوان، ہر منصب اور ہر کرسی محض ایک بے جان ڈھانچہ رہ جاتی ہے جس پر بیٹھنے والے اپنے سائے سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔
ہم اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ ہمیں مخلص رہنما نصیب نہیں ہوئے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ایک پودا اسی وقت تنآور درخت بنتا ہے جب اس کی جڑوں کو زرخیز مٹی اور خالص پانی ملے۔ ہماری سماجی مٹی میں اگر سچ، دیانت، اور ایثار کی رمق ہی باقی نہ رہے، تو وہاں سے کیسے کوئی بیدار مغز اور دردِ دل رکھنے والا وجود ابھر سکتا ہے؟
ہم نے کامیابی کا معیار صرف اور صرف مادیت کو بنا دیا ہے۔ جس کے پاس جتنا اثر و رسوخ ہے، خواہ وہ کسی بھی راستے سے حاصل کیا گیا ہو، وہی ہمارا ممدوح ہے۔ اس سوچ نے ہمارے اجتماعی شعور کو اس حد تک دھندلا دیا ہے کہ اب ہمیں اچھے اور برے کی تمیز کے لیے بھی نئے پیمانے تراشنا پڑتے ہیں۔
نرمی اور دردمندی کے ساتھ اگر ہم اپنے روزمرہ کے معاملات کا جائزہ لیں، تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے قوانین کی پاسداری کو صرف کمزوروں کے لیے لازم سمجھ رکھا ہے۔ طاقتور کے لیے ہر راستہ کھلا ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے کسی بھی معاشرے کی تباہی کا آغاز ہوتا ہے۔
عدل و انصاف صرف عدالت کے کمروں میں نہیں، بلکہ باپ اور بیٹے کے رشتے میں، استاد اور شاگرد کے تعلق میں، اور خریدار و دکاندار کے لین دین میں نظر آنا چاہیے۔ جب سوسائٹی کا ہر فرد اپنے دائرہ کار میں ناانصافی کو اپنا حق سمجھنے لگے، تو پھر اجتماعی سطح پر کسی معجزے کا انتظار کرنا دیوانگی کے سوا کچھ نہیں۔
مرض کی تشخیص تو سبھی کرتے ہیں، لیکن چارہ گری کی طرف کوئی قدم نہیں بڑھاتا۔ اس بحرانِ کردار سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اجتماعی ملامت کے بجائے انفرادی احتساب کی طرف لوٹیں۔
ہمیں اپنے گھروں، اپنے تعلیمی اداروں اور اپنی محفلوں میں ایک بار پھر اخلاقیات کا وہ درس زندہ کرنا ہوگا جو کبھی ہمارا طرۂ امتیاز تھا۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے، اگر ہر شخص اپنے حصے کا دیا جلا لے، تو اندھیرے کی یہ بساط الٹتے دیر نہیں لگے گی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مٹی کے ان جذبوں کو دوبارہ بیدار کریں جن کا خمیر محبت، سچائی اور ایثار سے اٹھا تھا۔ کسی کے عیب اچھالنے یا انگلی اٹھانے سے تبدیلی نہیں آتی، تبدیلی تب آتی ہے جب انسان خود کو بدلنے کا کٹھن فیصلہ کرتا ہے۔
وقت اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے، اگر ہم نے اب بھی اپنے کردار کی اس ٹوٹی ہوئی ناؤ کو سہارا نہ دیا، تو تاریخ کے صفحات پر ہمارا نام صرف ایک عبرت کا نشان بن کر رہ جائے گا۔
آئیے، منصبوں اور جذباتی نعروں کی دنیا سے نکل کر، اپنے وجود کے اندر جھانکیں اور اس بجھتے ہوئے چراغِ کردار کو اپنے اشکوں اور مخلصانہ کوششوں سے دوبارہ روشن کریں۔







