اس فیچر کے بارے میں پہلی مرتبہ جون 2026 میں رپورٹ سامنے آئی تھی، جبکہ اب اسے اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے واٹس ایپ کے نئے بیٹا ورژن میں متعارف کرا دیا گیا ہے۔

ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹ WABetaInfo کے مطابق ’اسکام الرٹ‘ ممکنہ طور پر فراڈ پر مبنی پیغامات کی نشاندہی کرکے صارف کو چیٹ کے اندر ہی اضافی انتباہ فراہم کرے گا، جس کے بعد صارف خود فیصلہ کر سکے گا کہ اسے پیغام کا جواب دینا ہے، بھیجنے والے کو بلاک کرنا ہے یا کانٹیکٹ کو رپورٹ کرنا ہے۔

یہ فیچر فراڈ کی کوشش کو خودکار طور پر نہیں روکے گا بلکہ صارف کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کرے گا تاکہ وہ محتاط فیصلہ کر سکے۔

میٹا کے مطابق یہ ایک اختیاری فیچر ہوگا اور بائی ڈیفالٹ فعال نہیں ہوگا۔ صارفین اسے واٹس ایپ کی سیٹنگز میں اکاؤنٹس کے آپشن کے ذریعے فعال کر سکیں گے۔

اس فیچر کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ممکنہ فراڈ پیغامات کا تجزیہ ڈیوائس کے اندر موجود مشین لرننگ ماڈل کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس طرح پیغام کا مواد کمپنی کے سرورز پر منتقل کیے بغیر ممکنہ خطرے کی نشاندہی کی جا سکے گی۔

میٹا کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے صارفین کے پیغامات کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ کمپنی اس سے قبل وائس میسجز کی ٹرانسکرپشن کے لیے بھی ڈیوائس پر ہی پراسیسنگ کی ٹیکنالوجی استعمال کر چکی ہے۔

فی الحال ’اسکام الرٹ‘ فیچر بیٹا ورژن میں آزمایا جا رہا ہے، اس لیے اسے تمام صارفین کے لیے کب تک دستیاب کیا جائے گا، اس بارے میں حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔