نئے ڈیجیٹل نظام کا مقصد ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کے حصول کے لیے سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے اور طویل انتظار کی مشکل ختم کرنا ہے۔ حکومت اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) کے تعاون سے متعارف کرائے گئے اس نظام کے تحت پنشن کیسز کی کارروائی روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں کم وقت میں مکمل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پنشن کے روایتی نظام میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کو اپنے کاغذات کی تکمیل، کیس کی پیش رفت معلوم کرنے اور دیگر معاملات کے لیے مختلف دفاتر سے رابطہ کرنا پڑتا تھا۔ اس عمل میں بعض اوقات کئی ہفتے یا ماہ بھی لگ جاتے تھے، جس کے باعث بزرگ پنشنرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

نئے نظام کے تحت سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو پنشن سے متعلق متعدد خدمات آن لائن دستیاب ہوں گی۔ ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے والے ملازمین اپنے پنشن کیس کی صورتحال گھر بیٹھے معلوم کرسکیں گے جبکہ درخواست کی پیش رفت بھی آن لائن ٹریک کی جاسکے گی۔

حکام کے مطابق ڈیجیٹل نظام کا ایک اہم مقصد پنشن کیسز کو زیادہ شفاف اور تیز بنانا ہے تاکہ متعلقہ ملازمین کو اپنے کیس کی موجودہ پوزیشن جاننے کے لیے بار بار متعلقہ دفاتر کا رخ نہ کرنا پڑے۔

ای پنشن نظام کے تحت پنشن کی رقم براہِ راست پنشنر کے کمرشل بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

اس اقدام سے پنشنرز کو مخصوص بینک برانچ سے ادائیگی وصول کرنے کی پابندی سے بڑی حد تک نجات مل سکے گی۔ پنشن کی رقم براہِ راست بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہونے سے بزرگ شہریوں کے لیے رقم وصول کرنے کا عمل مزید آسان اور سہل ہونے کی توقع ہے۔

نئے نظام میں پنشنرز کو موبائل فون کے ذریعے بھی اہم معلومات فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ایس ایم ایس کے ذریعے پنشن جاری ہونے کی اطلاع دی جاسکے گی، جبکہ اکاؤنٹ سے کسی قسم کی کٹوتی ہونے کی صورت میں بھی پنشنر کو پیغام موصول ہوگا۔

اس سہولت کے باعث پنشنرز کو اپنی ادائیگی یا اکاؤنٹ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے بار بار بینک یا سرکاری دفتر جانے کی ضرورت کم ہوجائے گی۔

ای پنشن نظام میں پنشنرز کی زندگی کی تصدیق کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔

ماضی میں پنشنرز کو سال میں دو مرتبہ بینک جاکر لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانا پڑتا تھا، جس کا مقصد یہ تصدیق کرنا تھا کہ پنشن وصول کرنے والا فرد حیات ہے۔

نئے نظام کے تحت اس عمل کی جگہ بائیومیٹرک تصدیق متعارف کرائی گئی ہے، جس سے پنشنرز کے لیے تصدیقی عمل نسبتاً آسان ہونے کی توقع ہے۔

نئے طریقہ کار کے تحت پنشنرز ہر چھ ماہ بعد قریبی بینک برانچ یا بائیومیٹرک سہولت رکھنے والے اے ٹی ایم پر جاکر اپنی شناخت کی تصدیق کرسکیں گے۔

فنگر پرنٹ کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق مکمل ہونے کے بعد پنشن اکاؤنٹ کو فعال رکھنے کا عمل جاری رہے گا۔

اس سہولت کا مقصد خصوصاً بزرگ پنشنرز کے لیے کاغذی کارروائی اور لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی دشواری کم کرنا ہے۔

حکومت کی جانب سے پنشنرز کے لیے مزید ڈیجیٹل سہولت متعارف کرانے پر بھی کام کیا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں موبائل ایپلی کیشنز تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن کے ذریعے مستقبل میں پنشنرز گھر بیٹھے اپنی شناخت کی تصدیق کرسکیں گے۔ مجوزہ نظام میں موبائل فون کے کیمرے کے ذریعے چہرے یا فنگر پرنٹ کی شناخت جیسے طریقوں کو استعمال کرنے کی سہولت شامل ہوسکتی ہے۔

اگر یہ سہولت مکمل طور پر فعال ہوجاتی ہے تو بزرگ اور معذور پنشنرز کے لیے بینک جانے کی ضرورت مزید کم ہوسکتی ہے۔

بائیومیٹرک تصدیق نہ کرانے پر اکاؤنٹ عارضی طور پر بلاک ہوسکتا ہے

حکام کے مطابق پنشنرز کے لیے مقررہ مدت کے اندر بائیومیٹرک تصدیق مکمل کرنا ضروری ہوگا۔

اگر کوئی پنشنر مقررہ وقت میں تصدیق مکمل نہیں کرتا تو اس کا پنشن اکاؤنٹ عارضی طور پر بلاک کیا جاسکتا ہے۔ تاہم کامیاب بائیومیٹرک تصدیق کے بعد اکاؤنٹ کو دوبارہ بحال کیا جاسکے گا۔

پنشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تصدیق کی مقررہ مدت کا خیال رکھیں تاکہ پنشن کی ادائیگی میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

نئے ڈیجیٹل نظام میں شامل ہونے کے لیے ریٹائرمنٹ سے قبل سرکاری ملازم کا ڈیٹا متعلقہ محکمے کی جانب سے ای پنشن پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔

محکمے کی جانب سے ملازم کی ضروری معلومات اور ریکارڈ ڈیجیٹل نظام میں درج کیے جانے کے بعد اسے ایک منفرد پنشن آئی ڈی جاری کی جائے گی۔

یہ پنشن آئی ڈی مستقبل میں پنشن سے متعلق خدمات حاصل کرنے، کیس کی پیش رفت معلوم کرنے اور دیگر متعلقہ معاملات کی نگرانی کے لیے استعمال کی جاسکے گی۔

ای پنشن پورٹل کا مقصد صرف موجودہ پنشنرز کو سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے والے سرکاری ملازمین کے پنشن کیسز کو بھی بروقت مکمل کرنا ہے۔

ڈیجیٹل ریکارڈ دستیاب ہونے سے ملازم کے ریٹائر ہونے سے پہلے پنشن کیس کی تیاری اور ضروری معلومات کی تکمیل ممکن ہوسکے گی، جس سے ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کے اجرا میں تاخیر کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

حکومت کی جانب سے پنشن کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے اقدام کو سرکاری خدمات کی فراہمی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔