محققین کے مطابق ان حشرات کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرکے ایسے حالات میں استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جہاں امدادی کارکنوں یا روایتی روبوٹس کا پہنچنا مشکل ہو۔
سائنس دانوں نے ان خصوصی کاکروچز کو ’پاربورگز‘ (Paraborgs) کا نام دیا ہے۔ ان کے جسم پر انتہائی چھوٹے کیمرے اور ادویات پہنچانے کے لیے مخصوص انجیکشن یا ڈلیوری آلات نصب کیے گئے ہیں، جبکہ ان کے اعصابی نظام کے ساتھ الیکٹروڈز منسلک کیے گئے ہیں۔
محققین کے مطابق الیکٹروڈز کی مدد سے ان حشرات کی حرکت کو مخصوص سمت میں کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد ایسے مقامات تک رسائی حاصل کرنا ہے جہاں عام امدادی مشینیں یا انسان براہ راست نہیں پہنچ سکتے۔
تجربات کے دوران سائنس دانوں نے ان سائبرگ کاکروچز کے ذریعے ادویات کو ہدف تک پہنچانے کی صلاحیت کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق نسبتاً دور فاصلے سے دوا پہنچانے میں کامیابی کی شرح تقریباً 72 فیصد رہی، جبکہ قریبی فاصلے پر یہ شرح 95 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کاکروچز کی قدرتی جسمانی ساخت انہیں تنگ اور پیچیدہ جگہوں سے گزرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی خصوصیت انہیں قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیوں کے لیے ممکنہ طور پر مفید بناتی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں عمارتیں گرنے کی صورت میں ملبے کے اندر ایسے چھوٹے راستے موجود ہوسکتے ہیں جہاں بڑے روبوٹس کا پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں چھوٹے جسامت کے یہ ’پاربورگز‘ متاثرہ افراد تک ادویات یا دیگر ضروری طبی سامان پہنچانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
محققین نے مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مختلف ہنگامی صورتحال میں استعمال کرنے کے امکانات بھی ظاہر کیے ہیں، زلزلوں، عمارتوں کے ملبے، سانپ کے کاٹنے یا دیگر طبی ہنگامی حالات میں فوری طور پر دوا پہنچانے کے لیے اس نظام کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی میں نصب کیمروں کی مدد سے امدادی ٹیموں کو مشکل مقامات کا جائزہ لینے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس طرح کسی متاثرہ شخص کی موجودگی کا سراغ لگانے اور اس تک ابتدائی طبی امداد پہنچانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے اور اسے بڑے پیمانے پر عملی امدادی کارروائیوں میں استعمال کرنے سے قبل مزید تحقیق اور تجربات کی ضرورت ہوگی۔
یادرہے کہ مستقبل میں ایسے بائیو ہائبرڈ نظام روبوٹکس اور قدرتی حشرات کی صلاحیتوں کو یکجا کرکے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کے لیے نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔
محققین اس ٹیکنالوجی کی رفتار، کنٹرول، دوا کی ترسیل اور دشوار گزار ماحول میں کارکردگی کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ ہنگامی حالات میں انسانی جانیں بچانے کے لیے اسے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جاسکے۔







