کینیڈین محکمہ امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ نے ترجیحی شعبوں میں ہیلتھ کیئر، سوشل سروسز، سائنس، ٹیکنالوجی، ہنرمند پیشوں اور تعلیم کو شامل کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے شعبوں میں موجود افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا ہے جہاں مقامی سطح پر مطلوبہ تعداد میں ماہر افراد دستیاب نہیں۔

نئے امیگریشن پروگرام کے تحت نرس پریکٹیشنرز، ڈینٹسٹس، فارماسسٹس، سائیکالوجسٹس، سوشل ورکرز اور لیبارٹری ٹیکنالوجسٹس سمیت متعدد شعبوں سے وابستہ اہل افراد کے لیے کینیڈا میں مستقل رہائش کے راستے نسبتاً آسان بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔

کینیڈین حکام کے مطابق ملک میں آبادی کی عمر میں اضافے اور ہیلتھ کیئر سسٹم پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث طبی اور سماجی خدمات کے شعبوں میں ماہر افرادی قوت کی ضرورت بڑھ رہی ہے، جسے پورا کرنے کے لیے بیرون ملک سے پروفیشنلز کو راغب کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی شہری بھی اس پروگرام کے تحت کینیڈا منتقل ہونے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، تاہم انہیں مقررہ اہلیت کے معیار پر پورا اترنا ہوگا۔ بنیادی شرائط میں گزشتہ تین برس کے دوران متعلقہ ترجیحی شعبے میں کم از کم ایک سال کا مسلسل کام کا تجربہ شامل ہے۔

اس کے علاوہ درخواست گزاروں کو انگریزی یا فرانسیسی زبان کے مقررہ معیار پر پورا اترنے کے ساتھ اپنی تعلیمی اسناد کی کینیڈین معیار کے مطابق تصدیق بھی کرانا ہوگی۔

اس پروگرام کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ترجیحی شعبوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے ایکسپریس انٹری کے عام نظام کے مقابلے میں کم کٹ آف سکور پر دعوت نامہ حاصل کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم حتمی انتخاب امیدوار کی اہلیت، تجربے، زبان اور دیگر امیگریشن شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

کینیڈا منتقل ہونے والے اہل افراد کو اپنے خاندان کے ہمراہ رہائش اختیار کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے اور انہیں ملک میں دستیاب سرکاری سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم ہیلتھ کیئر سے وابستہ پاکستانی پروفیشنلز کے لیے کینیڈا منتقل ہونے کے بعد ایک اہم مرحلہ مقامی لائسنس کا حصول ہے۔ کینیڈا میں ڈاکٹرز، نرسز، فارماسسٹس اور بعض دیگر طبی شعبوں کو صوبائی قوانین کے تحت باقاعدہ ریگولیٹ کیا جاتا ہے، اس لیے غیر ملکی اسناد کی جانچ اور متعلقہ صوبائی کونسل یا ریگولیٹری ادارے سے لائسنس حاصل کرنا ضروری ہوگا۔

امیگریشن ماہر میجر (ریٹائرڈ) بیرسٹر ساجد مجید کے مطابق عالمی سطح پر نرسنگ اور پیرامیڈیکل سٹاف کی کمی کے باعث کینیڈا سمیت کئی ممالک میں روزگار کے مواقع موجود ہیں، تاہم پاکستانی امیدواروں کے لیے ان مواقع سے فائدہ اٹھانا اتنا آسان نہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا کے ادارے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام سے زیادہ فائدہ ان پاکستانی شہریوں کو ہوسکتا ہے جن کے پاس نرسنگ یا متعلقہ شعبے کی باقاعدہ پروفیشنل ڈگری، مناسب عملی تجربہ اور کینیڈا کے مطلوبہ معیار کے مطابق اہلیت موجود ہو۔

ان کے مطابق پاکستان میں نرسنگ کے شعبے میں ڈگری ہولڈرز کے بجائے ڈپلومہ رکھنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے، جبکہ بین الاقوامی معیار کی ملازمتوں کے لیے عموماً اعلیٰ تعلیمی قابلیت اور مقامی لائسنسنگ کے مراحل مکمل کرنا ضروری ہوتے ہیں۔

بیرسٹر ساجد مجید نے کہا کہ بھارت سمیت بعض ممالک کے پروفیشنلز ان مواقع سے بڑی تعداد میں فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس کی ایک وجہ وہاں پروفیشنل تعلیم کا زیادہ رجحان ہے۔

انہوں نے کہا کہ مطلوبہ تعلیم اور تجربہ رکھنے والے پاکستانی شہری، خصوصاً وہ افراد جنہیں کینیڈا میں ملازمت یا کسی ادارے کی معاونت حاصل ہو، ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

امیگریشن ماہر کے مطابق اگر پاکستان میں سرکاری سطح پر بیرون ملک روزگار اور امیگریشن کے ان مواقع کے حوالے سے مؤثر آگاہی پیدا کی جائے اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے معیار کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو پاکستانی افرادی قوت بھی کینیڈا سمیت عالمی ہیلتھ کیئر مارکیٹ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہے۔