پی ٹی اے کے مطابق یہ فیصلہ صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد شکایات کے بعد کیا گیا ہے، جن میں صارفین نے شکایت کی تھی کہ سِم کی میعاد ختم ہونے پر ان کا استعمال نہ کیا گیا پری پیڈ بیلنس بھی ضائع ہوجاتا ہے۔ شکایات میں خاص طور پر زونگ اور ٹیلی نار پاکستان کا ذکر کیا گیا، جو اب پی ٹی سی ایل کا حصہ ہے۔
نئی پالیسی کے تحت اگر سم کی فعال مدت کے دوران کسی صارف کا بیلنس ختم ہوجاتا ہے تو اگلا ریچارج کرنے پر وہ رقم دوبارہ بحال کردی جائے گی اور صارف اسے استعمال کرسکے گا۔
پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں کو اس فیصلے پر عمل درآمد کے دوران کسی بھی غیر منصفانہ تجارتی طریقہ کار سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق یہ پالیسی یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہوگی اور تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو اس پر یکساں طور پر عمل کرنا ہوگا۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پری پیڈ صارفین ملک کے مجموعی موبائل صارفین کا تقریباً 97 فیصد ہیں، اس لیے غیر استعمال شدہ بیلنس کا تحفظ صارفین کی ایک بڑی تعداد کے لیے اہم ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ نئی پالیسی کا اطلاق سِم کی ملکیت یا فعال رہنے کی مدت پر نہیں بلکہ ریچارج اور بیلنس کی میعاد پر ہوگا۔
اتھارٹی نے صارفین کو یہ بھی یاد دہانی کرائی ہے کہ سِم اپنے ہی نام پر رجسٹرڈ ہونی چاہیے اور کسی دوسرے شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم کا استعمال قواعد کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی اے نے موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز کے لیے پالیسی فریم ورک کا اجراء کر دیا
پی ٹی اے کے مطابق صارفین اپنی سِم سے ہونے والی کالز، پیغامات اور ڈیٹا کے استعمال کے ذمہ دار ہوں گے، جب کہ ٹیلی کمیونیکیشن قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ضروری کارروائی کی جاسکتی ہے۔







