تفصیلات کے مطابق جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی کا بغیر پائلٹ مارٹین مونز ایکسپلوریشن (MMX) مشن آئندہ ماہ جاپان کے تنیگاشیما اسپیس سینٹر سے روانہ ہونے کے لیے تیار ہے۔

مشن کا خلائی جہاز تقریباً تین سال مریخ کے مدار میں گزارے گا اور اس دوران مریخ کے چاند فوبوس پر اترنے کی کوشش کرے گا۔ خلائی جہاز فوبوس کی سطح سے کم از کم 10 گرام مواد حاصل کرے گا، جب کہ فرانسیسی ساختہ IDEFIX روور چاند کی سطح کا تفصیلی مشاہدہ کرے گا۔

ایم ایم ایکس مشن مریخ کے دوسرے چاند ڈیموس کا بھی مشاہدہ کرے گا، تاہم وہاں لینڈنگ نہیں کی جائے گی۔ مشن مکمل ہونے کے بعد واپسی کیپسول زمین کی جانب روانہ ہوگا اور تقریباً 2031 میں آسٹریلیا میں اترنے کی توقع ہے۔

جاپانی خلائی ادارے کے مطابق مشن کا ایک اہم مقصد یہ جاننا ہے کہ مریخ اور اس کے دونوں چاند کیسے وجود میں آئے۔ سائنس دانوں کے مطابق مریخ کے چاندوں کی ابتدا سے متعلق دو اہم نظریات موجود ہیں۔

ایک نظریے کے مطابق کسی بڑے آسمانی جسم کے مریخ سے ٹکرانے کے نتیجے میں اس کے گرد موجود ملبے سے فوبوس اور ڈیموس وجود میں آئے، جب کہ دوسرے نظریے کے تحت یہ چاند دراصل نظام شمسی کے دوسرے حصوں سے آنے والے ایسے سیارچے ہیں جنہیں مریخ کی کششِ ثقل نے اپنی جانب کھینچ لیا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فوبوس اور ڈیموس کی اصل جاننے سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ نظام شمسی میں زمین سمیت چٹانی سیاروں پر زندگی کے لیے سازگار ماحول کیسے تشکیل پایا۔

مشن پر کام کرنے والے فرانسیسی ماہر فلکیات پیٹرک مشیل کے مطابق فوبوس اور ڈیموس سے حاصل ہونے والے مواد سے یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ پانی، نامیاتی مرکبات اور دیگر اہم عناصر بیرونی نظام شمسی سے اندرونی چٹانی سیاروں تک کیسے پہنچے۔

جاپانی خلائی ادارے کے مطابق ایم ایم ایکس مشن مریخ کے مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ ادارہ فوبوس کو ایک ممکنہ ’قدرتی خلائی اسٹیشن‘ کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گا تاکہ مریخ تک آمدورفت سے متعلق ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔

مشن میں فرانس، جرمنی، امریکا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت متعدد ادارے اور جامعات بھی جاپان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

مریخ کے چاند پر لینڈنگ کے حوالے سے مشن کے لیے سب سے بڑا چیلنج فوبوس کی انتہائی کم کششِ ثقل ہے۔ انجینئرز کے مطابق خلائی جہاز کی لینڈنگ ٹانگوں کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ لینڈنگ کے دوران جہاز سطح سے اچھلنے یا گرنے سے محفوظ رہے۔

جاپان کو خلا سے نمونے واپس لانے کا بھی تجربہ حاصل ہے۔ اس سے قبل جاپانی خلائی ادارے کا Hayabusa-2 مشن 2020 میں زمین سے کروڑوں کلومیٹر دور ایک سیارچے سے چٹان اور گرد کے نمونے زمین پر واپس لایا تھا۔

تاہم جاپان اکیلا ملک نہیں جو مریخ سے نمونے زمین پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ناسا کا پرسیورنس روور 2021 سے مریخ پر موجود ہے اور وہاں سے متعدد نمونے جمع کرچکا ہے، تاہم ان نمونوں کو زمین پر واپس لانے کے امریکی منصوبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب چین بھی مریخ سے نمونے زمین پر لانے کے لیے Tianwen-3 مشن تیار کر رہا ہے، جسے تقریباً 2028 میں لانچ کیا جائے گا اور اس کے ذریعے 2031 کے آس پاس مریخی نمونے زمین پر واپس لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اس طرح جاپان اور چین کے مشنز مریخ کے مواد کو زمین پر واپس لانے کی دوڑ میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں، جب کہ کامیاب نمونہ واپسی سے نظام شمسی اور مریخ پر زندگی کے ممکنہ آثار کے بارے میں سائنسی تحقیق کو نئی سمت مل سکتی ہے۔