خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے فوجی طیارہ بھیجنے کی اجازت مانگی تھی، تاہم سعودی عرب نے یہ درخواست مسترد کردی۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اسرائیل سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں اور دیگر مسافروں کو واپس لانے کے لیے خصوصی طیارہ بھیجنے پر غور کر رہا تھا۔ اسرائیل اپنے شہریوں کو فوجی یا قومی فضائی کمپنی ’ایل آل‘ کے طیارے کے ذریعے واپس لانا چاہتا تھا۔
سی این این کی تازہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والی فلائی دبئی کی پرواز پر سوار اسرائیلی مسافروں کو واپس لے جانے کے لیے اسرائیلی طیارے کو ملک میں داخل ہونے اور لینڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
اسرائیلی میڈیا اور حکام کی جانب سے واقعے کے حوالے سے مسلسل مختلف اور متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق پرواز کے دوران ایک پائلٹ نے مبینہ طور پر دوسرے پائلٹ پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی، جبکہ دیگر رپورٹس میں واقعے کی نوعیت اور پائلٹس کے بارے میں بھی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے الزام عائد کیا ہے کہ واقعے کا مقصد طیارے کو تباہ کرنا تھا، جب کہ وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ مسافروں سمیت طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
نیتن یاہو کے مطابق مبینہ حملہ آور پائلٹ اس وقت سعودی حکام کی تحویل میں ہے جہاں اس سے تفتیش کی جارہی ہے۔ تاہم واقعے کے محرکات اور حملے کے اصل مقصد کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب فلائی دبئی نے واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے سے قبل کسی بھی قسم کی قیاس آرائی سے گریز کرنے کی درخواست کی ہے۔
فلائی دبئی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ واقعہ طیارے کے کاک پٹ میں پیش آنے والے جھگڑے کے نتیجے میں ہوا، تاہم واقعے کی بنیادی وجوہات اور محرکات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
ایئرلائن کے مطابق مسافروں اور عملے کو ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے دو متبادل طیارے تبوک روانہ کردیے گئے ہیں۔







