نجی اخبار بزنس ریکارڈر کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سرحدی نظم و ضبط اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جب کہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے حکام مسئلے کے جلد اور پائیدار حل کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔
بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی کے ڈپٹی کمشنر بختیار اسماعیل نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاک ایران سرحد کی بندش کا مقصد سرحدی انتظام کو بہتر بنانا اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق سرحد پر تمام ضروری اور مؤثر حفاظتی اقدامات مکمل ہونے کے بعد تجارتی گزرگاہوں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
دوسری جانب تہران میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار آمدورفت اور سامان کا تبادلہ بعض تکنیکی مسائل اور احتیاطی تدابیر کے باعث عارضی طور پر روکا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام قریبی رابطے میں ہیں اور دوطرفہ مشاورت جاری ہے تاکہ سرحدی گزرگاہوں پر معمول کی سرگرمیاں جلد از جلد بحال کی جا سکیں۔
سرحدی آمدورفت کی اچانک بندش پر مقامی تاجر برادری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی سرگرمیاں معطل رہنے سے تاجروں اور مال بردار گاڑیوں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاجروں نے دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی اور انتظامی امور سے متعلق اقدامات کو فوری طور پر حتمی شکل دے کر سرحد پر تجارتی اور معاشی سرگرمیاں بحال کی جائیں۔







