امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کے مشاورتی پینل نے ڈی این اے پر مبنی اس ٹیسٹ کے حق میں 7 ووٹ دیے، جبکہ 2 ارکان نے مخالفت کی اور ایک رکن نے رائے دینے سے گریز کیا۔ ماہرین کی اکثریت نے اس بات سے اتفاق کیا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ٹیسٹ کے ممکنہ فوائد اس کے بعض خطرات پر غالب آسکتے ہیں، تاہم اس رائے کے ساتھ متعدد اہم تحفظات بھی سامنے آئے۔
یہ ٹیسٹ امریکی کمپنی Grail Inc. نے تیار کیا ہے اور اسے Galleri کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ٹیسٹ خون کے نمونے میں ایسے حیاتیاتی اور ڈی این اے سے متعلق اشاروں کی تلاش کرتا ہے جو جسم میں مختلف اقسام کے ٹیومرز کی ممکنہ موجودگی کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔
ماہرین نے تاہم واضح کیا کہ Galleri ٹیسٹ براہِ راست کینسر کی حتمی تشخیص نہیں کرتا۔ اگر ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آئے تو مریض کو مزید طبی معائنوں، امیجنگ اور دیگر تشخیصی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ واقعی کینسر موجود ہے یا نہیں اور اگر موجود ہے تو اس کا ماخذ کہاں ہے۔
مشاورتی پینل کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا ایک ممکنہ فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایسے بعض کینسرز کی نشاندہی کی جاسکے جن کے لیے فی الحال معمول کے مطابق اسکریننگ کے طریقے دستیاب نہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر بیماری کو نسبتاً ابتدائی مرحلے میں شناخت کیا جاسکے تو بعض صورتوں میں علاج کے بہتر امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
تاہم پینل نے اس پہلو پر بھی خاص تشویش کا اظہار کیا کہ ٹیسٹ کے مثبت نتیجے سے صحت مند افراد میں غیر ضروری خوف اور اضطراب پیدا ہوسکتا ہے، جبکہ غلط منفی نتیجہ کسی شخص کو یہ غلط اطمینان دے سکتا ہے کہ اسے کینسر نہیں ہے۔
ماہرین نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ Galleri جیسے خون کے ٹیسٹ کو اس وقت تک روایتی کینسر اسکریننگ کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے جب تک اس کی افادیت کے بارے میں مزید مضبوط شواہد سامنے نہ آجائیں۔ یعنی ٹیسٹ کا منفی نتیجہ میموگرام، کولونوسکوپی یا دیگر تجویز کردہ اسکریننگ ٹیسٹ ترک کرنے کی وجہ نہیں بن سکتا۔
کینٹکی کے شہر لوئس ول سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر وکٹر وین برکل نے بھی ٹیسٹ کی حمایت کے ساتھ مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا، اگر ایسے کینسرز کو ابتدائی مرحلے میں شناخت کرنے کا راستہ مل جائے جن کی فی الحال معمول کی اسکریننگ نہیں ہوتی تو اس کے ممکنہ طبی فوائد ہوسکتے ہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کے بارے میں حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔
یہ فیصلہ اس حوالے سے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ پہلی مرتبہ ایک وفاقی مشاورتی ادارے نے اس نوعیت کے تجرباتی ملٹی کینسر ڈیٹیکشن ٹیسٹ کے ممکنہ فوائد کی حمایت کی ہے۔ اگرچہ FDA مشاورتی پینل کی سفارش کا پابند نہیں، تاہم اس رائے کو مستقبل میں ٹیسٹ کی ریگولیٹری منظوری کے عمل میں اہم پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر میں متعدد کمپنیاں خون کے ذریعے ایک سے زیادہ اقسام کے کینسر کی ممکنہ نشاندہی کرنے والی ٹیکنالوجی پر تحقیق کررہی ہیں۔ اس طریقہ کار کا بنیادی تصور یہ ہے کہ ٹیومر سے خارج ہونے والے ڈی این اے یا دیگر حیاتیاتی نشانات کو خون کے نمونے میں تلاش کیا جائے اور ان کی بنیاد پر کینسر کی ممکنہ موجودگی کا اندازہ لگایا جائے۔
موجودہ دور میں کینسر کی اسکریننگ کے لیے مختلف بیماریوں کے مطابق الگ الگ طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر چھاتی کے کینسر کے لیے میموگرام اور بڑی آنت کے کینسر کے لیے کولونوسکوپی جیسے ٹیسٹ استعمال ہوتے ہیں، جبکہ دیگر اقسام کے سرطان کے لیے مختلف تشخیصی طریقے موجود ہیں۔
نئے خون کے ٹیسٹ کا تصور اس لحاظ سے مختلف ہے کہ ایک ہی ٹیسٹ کے ذریعے متعدد اقسام کے کینسر کے ممکنہ اشاروں کا سراغ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ Galleri ٹیسٹ 50 سے زائد اقسام کے کینسر سے متعلق ممکنہ سگنلز کی نشاندہی کرسکتا ہے، جن میں ایسی بیماریاں بھی شامل ہیں جن کے لیے عام آبادی میں باقاعدہ اسکریننگ دستیاب نہیں۔
تاہم ماہرین نے اس دعوے کو کینسر کی حتمی تشخیص کے مترادف قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ ان کے مطابق کسی حیاتیاتی سگنل کی نشاندہی اور کینسر کی حتمی تشخیص دو مختلف مراحل ہیں، جن کے درمیان مزید طبی تحقیقات ضروری ہوتی ہیں۔
پینل نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر ٹیسٹ ابتدائی مرحلے کے کینسرز کو شناخت کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو کیا اس سے واقعی مریضوں کی بقا میں اضافہ ہوگا اور کینسر سے ہونے والی اموات کم ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق اس سوال کا جواب طویل المدتی تحقیق اور بڑی تعداد میں افراد کی کئی سال تک نگرانی کے بعد ہی زیادہ واضح طور پر سامنے آسکتا ہے۔
ٹیسٹ کی ایک اور اہم حد ابتدائی مرحلے کے کینسرز سے متعلق بتائی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض صورتوں میں بیماری کے ابتدائی مرحلے میں ٹیسٹ کی حساسیت کم ہوسکتی ہے، حالانکہ کینسر کی جلد شناخت ہی اس قسم کی ٹیکنالوجی کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔
امریکا میں Galleri ٹیسٹ پہلے ہی بعض افراد کے لیے دستیاب ہے، تاہم اس کی قیمت عموماً 700 ڈالر یا اس سے زیادہ بتائی جاتی ہے اور فی الحال یہ اخراجات عموماً مریض کو خود برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اگر مستقبل میں FDA کی باضابطہ منظوری ملتی ہے تو اس کی دستیابی اور انشورنس کوریج کے امکانات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے کینسر اسکریننگ ٹیسٹ کو وسیع پیمانے پر استعمال کرنے سے پہلے اس کے فوائد اور ممکنہ نقصانات کا محتاط جائزہ لینا ضروری ہے۔ خاص طور پر یہ جاننا اہم ہوگا کہ ٹیسٹ کتنے حقیقی کینسر کیسز کی نشاندہی کرتا ہے، کتنے صحت مند افراد میں غلط مثبت نتائج دیتا ہے اور کتنے مریضوں میں بیماری موجود ہونے کے باوجود ٹیسٹ منفی نتیجہ ظاہر کرتا ہے۔
مشاورتی پینل کی سفارش کے باوجود Galleri ٹیسٹ کے مستقبل کے حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ اگر امریکی ریگولیٹری حکام اس ٹیکنالوجی کو منظوری دیتے ہیں تو یہ کثیر اقسام کے کینسر کی اسکریننگ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہوسکتی ہے، تاہم ماہرین کی جانب سے مزید تحقیق اور موجودہ اسکریننگ طریقوں کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔







