انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں ایک چیریٹی فنڈ ریزنگ تقریب کے دوران سابق فاسٹ بولر وقار یونس کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ وہ کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرا رہے اور ممکن ہے کہ ان کی رائے غلط ہو، تاہم ان کے خیال میں بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ کپتان نہیں بننا چاہیے تھا۔
وسیم اکرم نے کہا کہ بابر اعظم نے 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے بعد تمام فارمیٹس کی کپتانی چھوڑ دی تھی، تاہم رواں سال انہیں شان مسعود کی جگہ دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپ دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک، ایک سے برابر کی، جبکہ انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا۔
سابق کپتان نے خاص طور پر انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران پاکستان ٹیم میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کا حوالہ دیا۔ دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد تیسرے ٹیسٹ سے قبل قومی ٹیم کے 7 کھلاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا جبکہ کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔
برمنگھم میں تیسرے ٹیسٹ کے ٹاس کے موقع پر بابر اعظم سے ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان سے مشاورت نہیں کی اور وہ ان فیصلوں سے لاعلم تھے۔
بابر اعظم کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وسیم اکرم نے سوال اٹھایا کہ اگر ٹیم کے کپتان کو اتنے بڑے فیصلوں کا علم ہی نہیں تھا تو پھر وہ کپتان کی حیثیت سے وہاں کیا کر رہے تھے۔
وسیم اکرم نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’اگر کپتان کو ہی معلوم نہیں تھا تو پھر وہ وہاں کیا کر رہے تھے، کیا چھولے بیچنے آئے تھے؟‘
انہوں نے کہا کہ اگر ٹیم کا لیڈر کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑا نہ ہو تو کھلاڑی بھی اپنی 100 فیصد کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔ سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد بابر اعظم کو کپتانی چھوڑ کر باقی سیریز بطور کھلاڑی کھیلنی چاہیے تھی۔
ان کے مطابق وہ بابر اعظم کی جگہ ہوتے تو دوسرے ٹیسٹ کے بعد اعلان کرتے کہ اب وہ صرف بطور کھلاڑی ٹیم کا حصہ رہیں گے۔
یاد رہے کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 103 رنز، دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز جبکہ تیسرے ٹیسٹ میں 8 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح انگلینڈ نے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں 3-0 سے وائٹ واش کردیا۔
رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کے دورے کے بعد بابر اعظم کو ٹیسٹ کپتانی سے ہٹانے کا فوری فیصلہ نہیں کیا گیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیسٹ کرکٹ میں تسلسل برقرار رکھنے پر غور کر رہا ہے۔ پاکستان کی اگلی ٹیسٹ سیریز نومبر میں سری لنکا کے خلاف شیڈول ہے۔







