عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ایک خط کا مسودہ تیار کیا گیا ہے، جس میں جون میں امریکی ’AI Opportunities Statement‘ پر دستخط کرنے والے 35 ممالک کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ان ممالک میں امریکی ’Pax Silica‘ فریم ورک کے ارکان کے علاوہ وہ ممالک بھی شامل ہیں جنہوں نے واشنگٹن کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کی خواہش ظاہر کی ہے۔

امریکا نے گزشتہ سال ’Pax Silica‘ اقدام شروع کیا تھا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، سیمی کنڈکٹرز اور اہم معدنیات کی سپلائی چین کو محفوظ بنانا اور چین پر انحصار کم کرنا ہے۔ تقریباً دو درجن ممالک اس اقدام میں شامل ہوچکے ہیں، جن میں جاپان، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور اہم معدنیات کے ممکنہ بڑے ذخائر رکھنے والا قازقستان بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ کسی ملک کے لیے بیک وقت امریکی اور چینی اے آئی فریم ورک کا حصہ بننا ممکن نہیں ہوگا۔ امریکی حکام نے خط کے مسودے میں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے معاملے پر جان بوجھ کر انتخاب کریں۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے اپنا متبادل عالمی تعاون کا نظام تشکیل دے رہا ہے۔ جولائی میں چینی صدر شی جن پنگ نے ’ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن‘ کا آغاز کیا، جس کے ذریعے چین اپنی اوپن ویٹ اے آئی ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر فروغ دینا چاہتا ہے۔

دوسری جانب قازقستان اب تک واحد ملک ہے جو امریکی Pax Silica اقدام کے ساتھ ساتھ چین کے اے آئی تعاون کے فریم ورک میں بھی شامل ہوا ہے، جس پر واشنگٹن میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کی کوشش ہے کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کی تیاری میں چین کو ضروری وسائل اور ٹیکنالوجی تک رسائی محدود کی جائے، کیونکہ اے آئی کو مستقبل میں فوجی اور معاشی برتری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ Pax Silica کے تحت اتحادیوں اور شراکت داروں کو مشترکہ منصوبوں اور برآمدی کنٹرول کے ذریعے اہم معدنیات، اے آئی ماڈلز اور سیمی کنڈکٹر چپس کے لیے مخالف ممالک پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ چینی اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز نے امریکی کمپنیوں کے ملکیتی نظاموں کے مقابلے میں تیزی سے پیش رفت کی ہے، جب کہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں، خصوصاً خودکار طور پر سائبر حملے کرنے کی صلاحیت، نے عالمی سطح پر اس ٹیکنالوجی کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی خط کا مسودہ غیر تاریخ شدہ ہے اور یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن اسے کب جاری کرے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے مبینہ طور پر لیک ہونے والی اندرونی دستاویزات پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔