سینٹکام کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے ایرانی حملوں کو کامیابی سے ناکام بنایا، جس کے بعد امریکی فورسز نے ایرانی آئل ٹینکرز M/T Downy کو جزیرہ خارک کے قریب اور M/T Stark 1 کو جاسک کے قریب ’مستقل طور پر ناکارہ‘ بنا دیا۔

امریکی کمانڈ نے مزید کہا کہ M/T Kylo، جسے Noxen کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو خلیج عمان میں مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔ مذکورہ ٹینکر خالی تھا اور عملے کو جہاز چھوڑنے کی ہدایت کے بعد اسے مختلف اہم مقامات پر نشانہ بنایا گیا تاکہ وہ دوبارہ قابلِ استعمال نہ رہ سکے۔

سینٹکام کا کہنا ہے کہ تینوں آئل ٹینکرز ایران کے پاسداران انقلاب اور اس کے علاقائی اتحادی گروہوں کو مالی معاونت فراہم کرنے والے اربوں ڈالر کے ’شیڈو نیٹ ورک‘ کا حصہ تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا تو امریکا اس سے بھی زیادہ معاشی قیمت عائد کرے گا۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں اداروں نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فورسز نے جزیرہ خارک کے قریب ایک آئل ٹینکر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق M/T Stark 1 پر امریکی فورسز کی جانب سے 4 پروجیکٹائل داغے گئے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور عملہ جہاز سے انخلا کی تیاری کر رہا تھا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی طیارے نے حملے سے قبل ہنگامی مواصلاتی چینل کے ذریعے ٹینکر کے عملے کو خبردار بھی کیا اور انہیں جہاز چھوڑنے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں: خطے میں مشترکہ سکیورٹی سے متعلق چین کی تجویز کی مکمل حمایت کرتے ہیں: ایران

ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع میں آبنائے ہرمز بھی اہم محاذ بن چکی ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ ایران کا جزیرہ خارک بھی اس تنازع میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ملک کی خام تیل کی برآمدات کا اہم مرکز ہے۔

ایرانی اور امریکی فورسز کے درمیان رواں ہفتے ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد دوبارہ براہِ راست حملوں کا تبادلہ بھی ہوا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو جاری صورتحال کو ’جنگ‘ قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے میں اس وقت کوئی فعال فائرنگ نہیں ہورہی، تاہم دونوں ممالک کے درمیان تازہ حملوں نے اس کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل کردیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل جزیرہ خارک پر قبضے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں، جب کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی سپلائی اور آبنائے ہرمز کی سلامتی پر بھی خدشات برقرار ہیں۔