برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تسنیم نے خارگ جزیرے سے اپنے نمائندے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹینکر پر 4 امریکی میزائل داغے گئے۔ رپورٹ کے مطابق حملہ خارگ جزیرے کے قریب لنگر انداز ہونے والے علاقے میں کیا گیا، جبکہ حملے کے وقت ٹینکر سے تیل اتارا جا رہا تھا۔

ایرانی نیوز ویب سائٹ عصر ایران نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی آئل ٹینکر پر امریکی فورسز کی جانب سے 4 میزائل داغے گئے، تاہم واقعے میں ٹینکر کو پہنچنے والے نقصان یا اس میں سوار افراد کی صورتحال سے متعلق فوری طور پر کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

ایرانی حکام نے فوری طور پر مبینہ حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی واقعے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

ایران سے منسلک نیوز ویب سائٹ نور نیوز نے بھی مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خارگ جزیرے کے قریب ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی میزائل سے نشانہ بنائے جانے کی غیر مصدقہ اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل رائٹرز نے ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے حوالے سے بتایا تھا کہ خلیج کے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، تاہم دھماکوں کے بعد دھوئیں کے آثار نظر نہیں آئے۔ مجموعی طور پر ٹینکر پر مبینہ حملے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

خارگ جزیرہ ایران کے لیے کیوں اہم ہے؟

خارگ جزیرہ ایران کے لیے انتہائی اہم تیل برآمدی مرکز ہے۔ جنگ سے قبل ایران اپنی خام تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے کرتا تھا۔

جنگ کے دوران ایران کی تیل کی ترسیل پہلے ہی شدید متاثر ہوئی ہے۔ اپریل کے وسط میں امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات روکنے کے لیے بحری ناکہ بندی شروع کیے جانے کے بعد تیل کی ترسیل میں مزید رکاوٹ پیدا ہوئی۔

اگر خارگ جزیرے یا وہاں موجود تیل کی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا تو اس سے ایران کی تیل کی صنعت اور پہلے ہی مشکلات کا شکار ملکی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی خارگ جزیرے کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں۔ 31 اگست کو سوشل میڈیا پر جاری ایک مختصر پیغام، جس کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو بھی شامل تھی، میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ خارگ جزیرہ مکمل طور پر تباہ کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل 11 جون کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ خارگ جزیرے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، تاہم چند روز بعد انہوں نے واضح کیا تھا کہ جزیرے کے خلاف مجوزہ امریکی فوجی کارروائی فی الحال زیر غور نہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں آبنائے ہرمز بھی اہم معاملہ ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اس اہم سمندری راستے سے گزرتا تھا۔

ایرانی حکام پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر خارگ جزیرے کو نشانہ بنایا گیا تو ایران کی جانب سے سخت ردعمل دیا جائے گا۔ تاہم ہفتے کے روز ایرانی آئل ٹینکر پر مبینہ امریکی حملے کے حوالے سے تہران اور واشنگٹن کی جانب سے تاحال مکمل سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔