غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ شام کو اس فہرست سے نکالنے کا فیصلہ شامی حکومت کی جانب سے دہشتگرد تنظیموں سے مکمل لاتعلقی اور دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے کے اعتراف میں کیا گیا ہے۔

امریکی اقدام کے تحت شام پر عائد کئی اہم پابندیوں کے حوالے سے بھی نئی پالیسی سامنے آنے کی توقع ہے، جبکہ واشنگٹن اور دمشق کے درمیان سفارتی و اقتصادی روابط میں مزید پیش رفت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کی جانب سے دہشتگرد گروہوں سے فاصلہ اختیار کرنے کے اعلان اور خطے میں استحکام کے لیے اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا، مطابق شام کی نئی حکومت کے رویے اور پالیسیوں کا مسلسل جائزہ بھی لیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکا نے شام کے صدر احمد الشرع کی سابق تنظیم حیات التحریر الشام کو بھی بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تنظیم کے ماضی اور شام میں جاری طویل خانہ جنگی کے دوران اس کے کردار کے باعث اسے کئی برس تک امریکا اور دیگر ممالک کی جانب سے دہشتگرد تنظیم قرار دیا جاتا رہا۔

شام کی جانب سے امریکی فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے اس پیش رفت کو تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا فیصلہ شام کے لیے ایک نئے مرحلے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اسعد حسن الشیبانی کے مطابق شامی حکومت بین الاقوامی برادری کے ساتھ شفافیت، باہمی مفادات اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، شام خطے میں استحکام اور اپنے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے مثبت اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے۔

شامی حکام کے مطابق دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے نام خارج ہونا شام کی معیشت اور عالمی سطح پر اس کی سفارتی پوزیشن کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ دمشق کو امید ہے کہ اس فیصلے کے بعد دیگر ممالک کے ساتھ معاشی اور سفارتی روابط میں بھی بہتری آئے گی۔

ادھر شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بھی بدستور برقرار ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے گزشتہ روز اسرائیل کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ دمشق کی اولین ترجیح کسی بھی سکیورٹی معاہدے سے قبل اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہے۔

شامی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔ شام کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور سکیورٹی کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اسرائیلی کارروائیاں روکی جائیں اور شام کی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔

یاد رہے کہ امریکا کی جانب سے شام سے متعلق پالیسی میں تبدیلی اور دمشق کی نئی حکومت کے ساتھ روابط میں اضافہ خطے کی سیاست پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔ تاہم شام کو عالمی سطح پر مکمل طور پر معمول کے تعلقات کی طرف واپس آنے کے لیے سکیورٹی، سیاسی استحکام اور دیگر بین الاقوامی معاملات پر بھی اہم چیلنجز کا سامنا رہے گا۔

امریکی فیصلے کے بعد اب نظریں شام اور امریکا کے درمیان مستقبل کے تعلقات، پابندیوں میں ممکنہ مزید نرمی اور خطے میں شام کے کردار پر مرکوز ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شام نئی حکومت کے تحت عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بحال کرنے اور طویل عرصے سے جاری سیاسی و معاشی مشکلات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔