دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا جاری رہے گا، جب کہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی کیمپ اور دھرنے شروع ہوچکے ہیں۔ کراچی، پشاور، حیدرآباد، بدین، تھرپارکر، پنجاب کے مختلف شہروں اور بلوچستان میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 29 اگست سے بلوچستان میں بھی دھرنے شروع کیے جائیں گے جب کہ 12 ربیع الاول کو دھرنوں میں میلاد النبی ﷺ منایا جائے گا اور 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی جائے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن سیاسی مزاحمت پر یقین رکھتی ہے، ہم ہنگامہ آرائی اور لڑائی جھگڑے کے ذریعے سیاست چمکانا نہیں چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرامن رہنا ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، جماعت اسلامی طویل دھرنے اور ملک بھر میں سڑکیں بند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 7 اگست کو ملک کے 510 مقامات پر سڑکیں بند کرکے جماعت اسلامی نے اپنی اسٹریٹ پاور کا مظاہرہ کیا۔

امیر جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت غریب، متوسط طبقے، مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور روزگار کے لیے موٹر سائیکل یا گاڑی استعمال کرنے والوں پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک لیٹر پٹرول پر 130 روپے تک ٹیکسز اور لیوی وصول کی جارہی ہے، جس میں 80 روپے سے زائد پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی شامل ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لیوی ختم کرو، ورنہ تمہاری حکومت ختم ہوجائے گی۔ حکومت پٹرولیم لیوی کی مد میں اب تک 8 ہزار ارب روپے سے زائد وصول کرچکی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے حکومتی اخراجات کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے بجائے اپنی مراعات اور اخراجات کم کرے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران کروڑوں روپے کی گاڑیاں استعمال کرتے اور مفت پٹرول لیتے ہیں، جب کہ عوام کے لیے بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ مہنگی کردی گئی ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں غربت میں اضافہ ہوا ہے اور حکمران عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے نمائشی اقدامات پر توجہ دے رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز کے معاہدوں اور کیپسٹی پیمنٹس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ایسے بجلی گھروں کو بھی اربوں روپے کی ادائیگیاں کیں جن سے بجلی حاصل نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی پیدا کرنے پر تقریباً 1700 ارب روپے خرچ ہوئے جب کہ بجلی پیدا نہ کرنے کی مد میں 1800 ارب روپے ادا کیے گئے۔

حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ بعض پاور پلانٹس کی پیداواری صلاحیت کے حوالے سے بھی بے ضابطگیاں کی گئیں اور کہا کہ 125 میگاواٹ کا پلانٹ حقیقت میں 100 میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے۔ جماعت اسلامی کے 14 روزہ دھرنے کے نتیجے میں عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف ملا تھا۔

امیر جماعت اسلامی نے پنجاب میں تعلیم کی صورتحال پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں ایک کروڑ 18 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ حکومت نے 11 ہزار سرکاری اسکول آؤٹ سورس کردیئے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مریم نواز پنجاب کے عوام سے تعلیم چھین رہی ہیں اور حکمران طبقے کے بچوں اور غریب عوام کے بچوں کو دستیاب تعلیمی سہولیات میں واضح فرق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار کی بنیادی سہولیات فراہم کرے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کسانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں کسان پریشان ہے اور حکومت کی پالیسیوں سے کپاس اور گندم کے کاشت کار متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ان کی فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی جب کہ دوسری جانب عوام کو بھی سستی اشیائے خورونوش دستیاب نہیں۔ عوام کو سستی روٹی فراہم کی جائے اور کسانوں کو فصلوں کی مناسب قیمت دی جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے ملک کے سیاسی نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نام تبدیل ہونے کے باوجود چند خاندان مسلسل اقتدار میں رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں وڈیرے، خیبر پختونخوا میں خان اور بلوچستان میں سردار غریب عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اب شاخیں اور پتے جھاڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، اس ظالم نظام کو اکھاڑ کر پھینکنا ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں اور تاجر تنظیموں سے بھی جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ دھرنا کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا دھرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے امیر کو اپنی ذات یا جماعت کے لیے کچھ نہیں چاہیے، ہم 25 کروڑ عوام کے لیے دھرنا دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دھرنے کی حمایت کریں، احتجاج میں شرکت کریں اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔