چینی صدر نے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی فارمولے کو ترجیح دینے پر زور دیا اور کہا کہ سیاسی سمجھوتے کے ذریعے ایک ایسا حل تلاش کیا جانا چاہیے جو فریقین کے جائز حقوق اور مفادات کو مدنظر رکھے۔

شی جن پنگ کے مطابق فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے پہلا اصول یہ ہے کہ سیاسی راستے کو ترجیح دی جائے اور مذاکرات و مفاہمت کے ذریعے دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی مسئلے کا پائیدار حل خطے میں امن و استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

چینی صدر نے دوسرے اصول کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے اور جنگ کے بعد غزہ کے انتظامی معاملات فلسطینی عوام کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں، فلسطینی علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینی عوام کی خواہشات اور مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔

شی جن پنگ نے فلسطینی شہریوں کی انسانی صورتحال پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا، تیسرا بنیادی اصول انسانی ہمدردی اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق ہے۔ جنگ اور تنازع کے دوران عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں۔

چینی صدر نے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے چوتھے اصول کے طور پر انصاف اور برابری کو بنیادی حیثیت دینے پر زور دیا، کسی بھی سیاسی حل میں انصاف کے تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور تمام فریقوں کے جائز حقوق کا احترام ضروری ہے۔

شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کے مسئلے کا حل صرف عارضی جنگ بندی یا فوری کشیدگی کم کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا جامع سیاسی عمل شروع کیا جائے جو مستقبل میں خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد بن سکے۔

چینی صدر کے پیش کردہ چار اصولوں میں سیاسی مذاکرات، فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کی حکمرانی، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کے ساتھ ساتھ انصاف و برابری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے

چین طویل عرصے سے فلسطینی مسئلے کے سیاسی اور سفارتی حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ چینی مؤقف کے مطابق دو ریاستی حل کے ذریعے فلسطینی ریاست کے قیام اور خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا جانا چاہیے

شی جن پنگ کے تازہ بیان میں بھی اسی مؤقف کو نمایاں کیا گیا ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا مستقل حل طاقت کے بجائے سیاسی سمجھوتے، بین الاقوامی اصولوں، انسانی حقوق اور انصاف کی بنیاد پر تلاش کیا جانا چاہیے۔