اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات میں غیر منصفانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا برسوں سے امریکا کو ’لوٹ‘ رہا ہے۔
ٹرمپ نے امریکی کسانوں اور زرعی مصنوعات پر کینیڈین ٹیرف کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کینیڈا کی تجارتی پالیسیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان 60 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ پیدا ہوا۔
امریکی صدر نے کہا کہ اب یہ صورتحال مزید قابلِ قبول نہیں، امریکا میں گاڑیاں اور دیگر مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں پر کوئی ٹیرف عائد نہیں ہوگا، جب کہ کینیڈا سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر اضافی محصولات نافذ کیے جائیں گے۔

ٹرمپ نے کینیڈا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا کو کینیڈا کی ضرورت نہیں بلکہ کینیڈا کو امریکا کی ضرورت ہے، کیونکہ کینیڈا اپنی تجارت کا تقریباً 95 فیصد امریکا کے ساتھ کرتا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ کینیڈا کے ساتھ اب ایک ریاست کی طرح سلوک نہیں کیا جائے گا اور تجارت سمیت دیگر معاملات میں بھی کینیڈا کو دنیا کے مشکل ترین ممالک میں شمار کیا۔
لازمی پڑھیں: امریکا سے تجارتی جنگ؛ کینیڈا کا ’ڈالر کے بدلے ڈالر‘ جوابی ٹیرف کا اعلان
ٹرمپ کے اس اعلان سے امریکا اور کینیڈا کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔







