وزیراعلیٰ پنجاب کی چین روانگی کے موقع پر چین کے قونصل جنرل سن یان بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے، جنہوں نے مریم نواز شریف کو چین روانگی پر الوداع کیا۔ مریم نواز شریف چین میں صوبہ شن جیانگ کی اعلیٰ قیادت اور مختلف حکومتی و انتظامی وفود سے ملاقاتیں کریں گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب چین پہنچنے کے بعد ارومچی میں اپنی سرکاری مصروفیات کا آغاز کریں گی، جہاں ان کی شن جیانگ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پنجاب اور شن جیانگ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مریم نواز شریف سے شن جیانگ کے پارٹی سیکریٹری کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا وفد ملاقات کرے گا۔ ملاقات میں دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے امور، صوبائی سطح پر تعاون، معاشی روابط اور ترقیاتی تجربات کے تبادلے سمیت مختلف معاملات زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی شن جیانگ اویغور خودمختار علاقائی کمیٹی کے ڈپٹی پارٹی سیکریٹری ہی ژونگ یو سے بھی ملاقات طے ہے۔ اس کے علاوہ شن جیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کور کے وفد کے ساتھ بھی اہم نشست ہوگی، جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع کا جائزہ لیا جائے گا۔
مریم نواز شریف چین کے سرکاری مہمان کی حیثیت سے شن جیانگ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں قیام کریں گی۔ ان کے اعزاز میں چینی حکام کی جانب سے عشائیے کا بھی اہتمام کیا جائے گا، جس میں پنجاب کے وفد کے ارکان اور چینی حکام شرکت کریں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے دورہ چین کو پنجاب اور چین کے درمیان صوبائی سطح پر روابط مزید مضبوط بنانے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی، زرعی، صنعتی، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دونوں ممالک اعلیٰ سطح کے رابطوں کو مزید وسعت دینے پر زور دیتے رہے ہیں۔
پاکستان اور چین کے درمیان رواں سال سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر بھی مختلف سطحوں پر روابط اور تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی تعاون اور سی پیک کے تحت منصوبوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
مریم نواز شریف کے دورے میں پنجاب کے لیے چینی تجربات سے استفادہ کرنے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور صوبائی سطح پر باہمی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیے جانے کی توقع ہے۔ دورے کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے بات چیت بھی اہمیت رکھے گی۔
چینی حکام کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کو سرکاری مہمان کا درجہ دیا جانا بھی دورے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ مریم نواز شریف کی چینی حکام سے ملاقاتوں میں پنجاب میں جاری ترقیاتی اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
حکام کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے اس دورے سے پاکستان اور چین کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو صوبائی سطح پر مزید مستحکم کرنے اور پنجاب و چینی صوبوں کے درمیان عملی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کے وفد کی چین میں ہونے والی ملاقاتوں اور سرگرمیوں کو آئندہ دنوں میں دونوں جانب سے تعاون کے نئے معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔







