محسن نقوی کے مطابق ایران کے دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ ایرانی صدر سے اہم اور تفصیلی ملاقات ہوئی، جس میں دونوں جانب سے موجودہ علاقائی صورتحال، باہمی تعلقات اور جاری تنازعات پر کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات انتہائی مثبت، سنجیدہ اور نتیجہ خیز ماحول میں ہوئی۔ ملاقات کے دوران ایرانی قیادت نے اپنی حکومت کا مؤقف، خدشات اور تحفظات واضح انداز میں پیش کیے، جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی ترجیحات سے آگاہ کیا گیا۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بات چیت کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع سمیت مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ فریقین نے اس امر پر بھی غور کیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات کو محدود کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی جانب کیسے پیش رفت کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی اور تنازع کے جامع حل کے لیے مختلف اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ پاکستان نے اس حوالے سے بات چیت اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق مذاکرات میں مختلف امور پر پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں جانب سے مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا، پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ حالات میں خطے کے تمام ممالک کے درمیان رابطے اور مذاکرات انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ پیچیدہ علاقائی معاملات کا پائیدار حل بات چیت، سفارتی کوششوں اور باہمی مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

وزیر داخلہ نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ حالیہ رابطوں اور مذاکرات کے نتیجے میں نہ صرف باہمی معاملات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دیرپا امن کے لیے بھی مثبت ماحول پیدا ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان امن کے فروغ، علاقائی استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، جبکہ حالیہ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو اسی سلسلے کی اہم کڑی قرار دیا جا سکتا ہے۔

حکام کے مطابق ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے مذاکرات اور مفاہمت پر زور دینے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔