امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد رضا نقدی نے کہا کہ ایران اب تک جنگ میں کامیاب رہا ہے اور مستقبل میں بھی اپنی کامیابی کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جتنی طویل جنگ جاری رہے گی، ایران کو اتنا ہی زیادہ فوجی تجربہ حاصل ہوگا۔ ان کے مطابق ایران کو اس سے قبل امریکا کے ساتھ ایسی براہِ راست اور حقیقی جنگ کا تجربہ نہیں ہوا تھا، جس کے ذریعے اسے امریکی فوج کے خلاف جنگی حکمت عملی سیکھنے کا موقع مل سکے۔
محمد رضا نقدی کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ایرانی افواج نے جنگ کے میدان میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس عرصے کے دوران ایران نے یہ بھی دیکھا کہ امریکی فوج اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے جتنا تہران نے پہلے اندازہ لگا رکھا تھا۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ جنگ کے دوران حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل میں ایران کی فوجی حکمت عملی کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق ایرانی فورسز نے نہ صرف اپنی فوجی صلاحیتوں کو آزمایا بلکہ امریکی فوج کی جنگی حکمت عملی اور صلاحیتوں کا بھی مشاہدہ کیا۔
محمد رضا نقدی نے مزید کہا کہ ایران خود کو موجودہ جنگ میں فاتح سمجھتا ہے اور مستقبل میں بھی کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
تاہم ایرانی عہدیدار کے یہ دعوے ان کا اپنا مؤقف ہیں۔ امریکی فوج یا امریکی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دونوں ممالک کی فوجی صلاحیتوں، جنگی حکمت عملی اور آئندہ اقدامات پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔







