ایرانی سفیر نے اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران نے پاکستان کو ایل پی جی یا کسی بھی دوسری شے کی برآمد پر پابندی عائد نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدیں کھلی ہیں اور موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان جیسے برادر ملک کے ساتھ سرحدیں بند کرنا نہ تو منطقی ہے اور نہ ہی کسی فریق کے مفاد میں۔

رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ای فارم نظام پر عمل درآمد میں تبدیلیوں کے باعث تاجروں کو ایران سے پاکستان سامان بھیجنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی سامان کی ترسیل عملاً متاثر ہوئی ہے۔

ایرانی سفیر کے مطابق ایران سے ایل پی جی لے جانے والے کئی سو ٹرک رمدان سرحد کے راستے پاکستانی علاقے گبد میں داخل ہوئے، تاہم کئی ہفتے گزرنے کے باوجود ان کا سامان اتارا نہیں جا سکا اور نہ ہی ٹرکوں کو ضروری کلیئرنس مل سکی۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں مزید متاثر ہوئی ہیں اور مسئلے کے حل کے لیے پاکستانی حکام سے مشاورت جاری ہے۔

دوسری جانب پاکستانی اخبار ڈان کی 25 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ضلع گوادر میں گبد، رمدان سرحدی گزرگاہ پر ایک ہفتے کی معطلی کے بعد ہفتے کو تجارتی سرگرمیاں جزوی طور پر بحال کر دی گئی تھیں۔

ابتدائی طور پر ان کھیپوں کی نقل و حرکت کی اجازت دی گئی جن کے کنسائنمنٹ نوٹس 16 اکتوبر یا اس سے پہلے جاری ہوئے تھے۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میر نوید جان کلمتی نے بھی سرحدی گزرگاہ پر تجارت کی بحالی کی تصدیق کی تھی۔

ڈان کی ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزارتِ تجارت نے اکتوبر کے وسط میں ایران سے درآمدات کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم سے متعلق بعض استثنیٰ واپس لے لیے تھے، جس سے سرحد پار تجارت متاثر ہوئی اور بڑی تعداد میں تجارتی گاڑیاں پھنس گئیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے 23 اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ سرحدی تجارت میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان میں ایل پی جی کی ممکنہ قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ تاجروں کے مطابق ایران سے روزانہ ہزاروں ٹن ایل پی جی پاکستان درآمد کی جاتی ہے، جس کا بڑا حصہ گبد، رمدان راستے سے آتا ہے۔

پاکستانی حکام سرحدی پابندیوں کے حوالے سے سکیورٹی خدشات اور اسمگلنگ کی روک تھام کا مؤقف پیش کرتے رہے ہیں، جب کہ ایرانی حکام موجودہ رکاوٹوں کو انتظامی اور تکنیکی مسائل سے جوڑ رہے ہیں۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کا اہم حصہ ہے اور اس کا تسلسل دونوں ملکوں اور ان کے عوام کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران دوطرفہ تجارت کو آسان بنانے اور موجودہ مشکلات دور کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا اور پاکستانی حکام کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جا رہا ہے۔

ایرانی سفیر نے تجارتی رکاوٹوں کا ذمہ دار پاکستان کے درآمدی اور کلیئرنس طریقہ کار کو قرار دیا ہے۔ تاہم، زیرِ التوا سامان کی مکمل کلیئرنس اور معمول کی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی سے متعلق تمام مسائل حل ہونے کی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔