انڈونیشیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کی جارہی ہے، ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ دور دراز اور پہاڑی علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی آسان نہیں۔
انڈونیشیا کی جیو فزکس ایجنسی کے مطابق زلزلے کی شدت 7.7 ریکارڈ کی گئی اور اس کی گہرائی تقریباً 15 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز فلورس کے شمالی حصے میں، نگی کیو کے علاقے سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال مشرق میں ریکارڈ کیا گیا
مرکزی زلزلے کے فوراً بعد متعدد آفٹر شاکس محسوس کیے گئے، جن میں ایک جھٹکا 6.1 شدت کا بھی تھا۔ مسلسل جھٹکوں کے باعث شہری گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے اور بڑی تعداد میں لوگوں نے کھلے مقامات کا رخ کیا۔
متاثرہ علاقوں میں کئی عمارتوں کے حصے منہدم ہونے، گھروں کو نقصان پہنچنے اور دیگر انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، ابتدائی جائزے میں درجنوں مکانات کو شدید نقصان پہنچا جبکہ صحت کے مراکز، سرکاری عمارتیں، عبادت گاہیں اور دیگر تنصیبات بھی متاثر ہوئی ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق بعض افراد عمارتوں کا ملبہ گرنے کے باعث جاں بحق ہوئے۔ مشرقی نوسا ٹینگارا کے گورنر نے بھی بتایا کہ بعض متاثرین زلزلے کے وقت اپنے گھروں میں سو رہے تھے اور ملبہ گرنے سے جان کی بازی ہار گئے۔
ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر ملبے کو ہٹانے اور ممکنہ طور پر پھنسے افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ سڑکوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بعض مقامات تک رسائی مشکل ہوگئی ہے۔
زلزلے کے دوران مومیرے کی بندرگاہ پر بھی خوفناک مناظر دیکھنے میں آئے۔ مقامی طور پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں عمارت کے بڑے حصے ٹوٹ کر نیچے گرتے دکھائی دیے، جبکہ وہاں موجود مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی۔
اطلاعات کے مطابق کچھ افراد فیری پر سوار ہونے کے لیے انتظار کررہے تھے کہ اچانک ٹرمینل کے ایک حصے کو نقصان پہنچا۔ گینگ وے متاثر ہونے کے باعث چند افراد سمندر میں بھی جا گرے، تاہم فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں
شدید زلزلے کے بعد انڈونیشین حکام نے ساحلی علاقوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کی اور شہریوں کو بلند مقامات کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت کی۔
بعض علاقوں میں سمندر کی سطح میں معمولی تبدیلی بھی ریکارڈ کی گئی، تاہم حکام کی جانب سے مسلسل نگرانی کے بعد تقریباً تین گھنٹے بعد سونامی وارننگ ختم کردی گئی۔ انڈونیشیا کی BMKG کے مطابق مختلف مقامات پر چھوٹی سمندری لہریں ریکارڈ ہوئیں، جن میں بعض مقامات پر تقریباً ایک میٹر تک کی تبدیلی شامل تھی۔
سونامی کے خدشے کے باعث تقریباً 2 ہزار افراد نے متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کی۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ساحلی علاقوں اور ان عمارتوں سے دور رہیں جن میں زلزلے کے باعث دراڑیں یا ساختی نقصان پیدا ہوا ہے
زلزلے کے جھٹکوں کے باعث فلورس اور آس پاس کے علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی شہریوں نے بتایا کہ جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور کئی خاندانوں نے آفٹر شاکس کے خدشے کے باعث رات کھلے مقامات پر گزارنے کا فیصلہ کیا۔
متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کے مطابق زمین کے ہلنے کے ساتھ ہی گھروں میں موجود سامان گرنے لگا جبکہ متعدد مقامات پر بجلی اور مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا
زلزلے کے نتیجے میں بعض علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس سے اہم سڑکیں متاثر ہوئیں۔ امدادی اداروں کے مطابق پہاڑی علاقوں میں ملبہ گرنے سے آمدورفت متاثر ہوئی اور ریسکیو ٹیموں کو متاثرین تک پہنچنے میں دشواری پیش آرہی ہے
حکام متاثرہ علاقوں میں نقصان کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں درجنوں مکانات کے علاوہ طبی مراکز، سرکاری دفاتر، عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات شامل ہیں
انڈونیشین ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں مختلف متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں اور ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری ہے۔ امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور بے گھر ہونے والے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دور دراز علاقوں سے مکمل معلومات موصول ہونے اور ریسکیو کارروائی آگے بڑھنے کے بعد نقصانات کی حتمی صورتحال واضح ہوگی۔ موجودہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد ابتدائی قرار دی جارہی ہے
انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں۔ ملک بحرالکاہل کے رنگ آف فائر میں واقع ہے، جہاں متعدد ٹیکٹونک پلیٹس ایک دوسرے کے قریب واقع ہیں
اسی جغرافیائی صورتحال کے باعث انڈونیشیا میں وقتاً فوقتاً شدید زلزلے آتے رہتے ہیں۔ فلورس اور مشرقی نوسا ٹینگارا کا خطہ بھی زلزلوں کے حوالے سے حساس سمجھا جاتا ہے
تازہ زلزلے کے بعد حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں، آفٹر شاکس کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرہ عمارتوں میں واپس جانے سے گریز کریں اور سرکاری امدادی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔







