عرب اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو پریس بریفنگ میں بتایا کہ سعودی عرب کے مختلف ایئرپورٹس، جن میں ابہا ایئرپورٹ بھی شامل ہے، پر حوثیوں کے حملوں میں مجموعی طور پر 19 افراد ہلاک اور 364 زخمی ہوئے۔
ترکی المالکی نے کہا کہ ایئرپورٹس کو نشانہ بنانے سے ہزاروں عام مسافروں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ انہوں نے ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر ایک حملے کا حوالہ بھی دیا، جس میں ان کے مطابق 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ مصروف اوقات میں کیے جانے والے حملے نہ صرف سعودی عرب کے ایئرپورٹس کو نشانہ بناتے ہیں بلکہ شہریوں، عام مسافروں اور دنیا بھر سے حرمین شریفین آنے والے زائرین کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔
عرب اتحاد کے ترجمان کے مطابق آپریشنز کے آغاز سے اب تک سعودی عرب کی جانب ایک ہزار 104 میزائل اور ایک ہزار 135 ڈرونز داغے جا چکے ہیں۔ ان حملوں میں 118 بارودی کشتیاں اور 278 بارودی سرنگیں بھی استعمال کی گئیں۔
ترکی المالکی نے الزام لگایا کہ حوثیوں نے علاقائی فریقین کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کی ہے اور صنعا، صعدہ اور عمران کے پہاڑی علاقوں میں ایسے ذخیرہ گاہیں تعمیر کی ہیں جنہیں حملوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا جنگ جاری رکھنے کے لیے شہری بنیادی ڈھانچے اور یمن کے وسائل استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عرب اتحاد نے پہاڑی علاقوں میں حوثیوں کے 127 ذخیرہ گاہوں اور متعدد لانچ پیڈز کو تباہ کیا ہے۔
عرب اتحاد کے ترجمان نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ عام شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں فوری طور پر بند کریں۔ ان اہداف میں ایئرپورٹس، بندرگاہیں، تیل کی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ترکی المالکی نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں کی تفصیلات دو ادوار میں بیان کیں۔ ان کے مطابق پہلا دور 10 سال پر محیط ہے، جبکہ دوسرا دور اپریل 2022 میں جنگ بندی سے شروع ہو کر اکتوبر 2026 تک جاری رہا۔







