وزارتِ خارجہ میں نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر رائد کریملی نے ورچوئل بریفنگ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور معاونت فراہم کر رہا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی فارسی کے مطابق ڈاکٹر رائد کریملی نے دعویٰ کیا کہ تنازع کے حالیہ مرحلے میں حوثیوں کی جانب سے کشیدگی میں اضافہ ایران کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر تہران اس معاملے میں مددگار ثابت نہیں ہو رہا، تاہم سعودی عرب ایران کے ساتھ براہِ راست رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔

سعودی عہدیدار کا کہنا تھا کہ فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ ایرانی حکام کسی حل تک پہنچنے کے لیے کسی قسم کی رعایت دینے کی پوزیشن میں ہیں۔ تہران کی جانب سے سعودی عہدیدار کے الزامات پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ڈاکٹر رائد کریملی نے حوثیوں پر حالیہ ہفتوں میں عمان میں ملاقات سے انکار کا الزام بھی عائد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی کے حالیہ دور کے آغاز پر سعودی عرب نے حوثیوں کو مسقط، عمان میں ملاقات کی دعوت دی تھی، تاہم انہوں نے انکار کردیا۔ ان کے مطابق چند ہفتے قبل ہونے والا یہ رابطہ فریقین کے درمیان آخری رابطہ تھا۔

دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے پریس کانفرنس کے دوران ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملوں اور اتحاد کی جانب سے کی جانے والی فوجی کارروائیوں کی تفصیلات بیان کیں۔

ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب میں متعدد ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

انہوں نے بتایا کہ شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں میں 10 ڈرونز، میزائلوں اور دیگر پروجیکٹائلز کا استعمال کیا گیا۔ سعودی عسکری اتحاد کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اتحادی افواج نے یمن کے پہاڑی علاقوں میں حوثیوں کے 127 گودام بھی تباہ کیے ہیں۔