عمران خان امریکی شہری ہیں اور ان کے پاس اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ ہے، جو انڈین نژاد افراد کو انڈیا آنے اور وہاں قیام کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم، اس کارڈ کے حامل افراد کو انڈیا میں ووٹ ڈالنے یا انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل نہیں۔

ممبئی پولیس نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ عمران خان نے ممبئی کے آگست کرانتی میدان میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کی تھی، جہاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔

پولیس کے مطابق، غیر ملکیوں کی علاقائی رجسٹریشن کا دفتر (ایف آر آر او) عمران خان کو احتجاج میں شرکت کے ذریعے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر نوٹس جاری کر چکا ہے۔

تاہم، اداکار کے وکیل کا کہنا ہے کہ قانون یا او سی آئی کارڈ رکھنے والوں سے متعلق کسی ضابطے میں انہیں احتجاج میں شرکت سے منع نہیں کیا گیا۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق، عمران خان نے ممبئی پولیس کے نوٹس کو عدالت میں چیلنج کرنے کی درخواست میں اسے ’سخت اقدام‘ قرار دیا ہے۔ ان کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ اس حکم کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔

عمران خان کا مؤقف کیا ہے؟

عمران خان نے 10 اکتوبر کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے منعقدہ احتجاج میں شرکت کی تھی۔ یہ احتجاج نوجوانوں کی قیادت میں جاری اس تحریک کا حصہ تھا جس میں انتخابی اصلاحات اور انڈیا کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

تحریک کے شرکا نے انتخابی عمل میں دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، تاہم انڈیا کا الیکشن کمیشن ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان نے انڈین شہری نہ ہونے کے باوجود احتجاج میں شرکت کی۔

ان کے خلاف شکایت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کریت سومیا نے درج کرائی تھی۔ بی جے پی اس وقت انڈیا اور ریاست مہاراشٹر میں حکومت کر رہی ہے۔

سومیا نے الزام عائد کیا کہ عمران خان ’انڈیا میں انتشار پھیلانے کی سازش میں ملوث‘ ہیں۔

عمران خان نے اس الزام کا براہِ راست جواب نہیں دیا، تاہم احتجاج میں شرکت کی وجہ بتاتے ہوئے صحافیوں سے کہا تھا کہ ان کے کوئی مطالبات نہیں بلکہ وہ اس شہر میں رہنے والے ایک شہری کی حیثیت سے وہاں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا، ’میں یہ دیکھنے آیا ہوں کہ نقل و حرکت کی آزادی کو محدود کیوں کیا جا رہا ہے اور لوگوں کی آوازیں کیوں دبائی جا رہی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی تنظیم کے نمائندے کی حیثیت سے احتجاج میں شریک نہیں ہوئے تھے۔

احتجاج کے بعد پولیس نے عمران خان کو دیگر مظاہرین کے ساتھ مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا تھا۔

اداکار نے انسٹاگرام پر پولیس کی حراستی گاڑی کے اندر اپنی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس کے ساتھ انہوں نے لکھا، ’بظاہر مجھے سیر کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔‘ اس پوسٹ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر 20 لاکھ سے زیادہ لائکس ملے۔

عمران خان کا فلمی کیریئر

عمران خان 2008 میں ریلیز ہونے والی کامیاب رومانوی کامیڈی فلم ’جانے تو... یا جانے نا‘ سے شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

انہوں نے بطور چائلڈ ایکٹر 1988 کی فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ اور 1992 کی فلم ’جو جیتا وہی سکندر‘ میں بھی کام کیا تھا۔

مرکزی اداکار کے طور پر اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کرنے کے بعد انہوں نے ’آئی ہیٹ لو سٹوریز‘، ’میرے برادر کی دلہن‘ اور ’دہلی بیلی‘ جیسی فلموں میں اداکاری کی۔

ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک فلموں سے دور رہنے کے بعد عمران خان رواں سال نیٹ فلکس کی فلم ’ادھورے ہم ادھورے تم‘ کے ذریعے اداکاری کی دنیا میں واپس آئے ہیں۔ ان کے خلاف ملک چھوڑنے کا حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ دوبارہ فلمی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

انڈیا میں انتخابی اصلاحات کے لیے احتجاج

عمران خان کے خلاف کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب انڈیا کے مختلف شہروں میں انتخابی اصلاحات کے مطالبے پر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہزاروں مظاہرین نے دہلی، ممبئی اور انڈیا کے دیگر علاقوں میں مارچ کیا اور اہم ریاستی انتخابات سے قبل چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

پیر کو انڈیا کی کئی بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔ کانگریس کے رکن پارلیمان راہل گاندھی نے ہزاروں مظاہرین کی قیادت کرتے ہوئے دہلی میں کناٹ پلیس سے سپریم کورٹ تک مارچ کیا۔

بدھ کو سی جے پی کے دو اہم رہنماؤں کو دہلی میں احتجاج کے مقام پر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد پانچ روز کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

سی جے پی نے دارالحکومت دہلی میں جمعے کی شام ایک اور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔