عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو ہونے والے حملے کی تصدیق یمنی حکومت کے 3 فوجی ذرائع اور مقامی پولیس اہلکاروں نے کی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے العاشق صدارتی محل کو 5 میزائلوں سے نشانہ بنایا، جہاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا صدر دفتر بھی قائم ہے۔
حملے کے بعد صدارتی محل کے مقام سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جب کہ عدن کے رہائشیوں نے متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی۔
حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ گروپ نے العاشق محل میں قائم فوجی آپریشنز کے مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔
جنگ زدہ علاقے اور سخت صحافتی پابندیوں کے باعث حملے میں ہونے والے نقصانات اور متاثرہ تنصیبات سے متعلق مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
عدن یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا عبوری دارالحکومت ہے، جب کہ ملک کا اصل دارالحکومت صنعا حوثی گروپ کے کنٹرول میں ہے۔
یمن میں اقتدار اور علاقائی کنٹرول کا تنازع 2014 سے جاری ہے، جب حوثی گروپ نے دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے بعد یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان لڑائی شدت اختیار کرگئی، جب کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج نے بھی یمنی حکومت کی حمایت میں کارروائیاں کیں۔







