خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی چینل 12 نے بتایا ہے کہ اب تک 40 لاکھ سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کو 27 نشستیں ملی ہیں، جبکہ ان کے اہم حریف گادی آئزن کوٹ کی جماعت ایک نشست کھونے کے بعد 20 نشستوں پر آ گئی ہے۔

عرب قیادت والی جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی ہے۔ ان جماعتوں کا کردار نئی حکومت کی تشکیل میں اہم ہو سکتا ہے۔

اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق دونوں بڑے سیاسی اتحاد اس حد سے پیچھے ہیں، جس کے باعث حکومت سازی کے لیے مشکل مذاکرات کا امکان ہے۔

ابتدائی انتخابی جائزوں میں نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد اور گادی آئزن کوٹ کے اپوزیشن اتحاد کو تقریباً برابر قرار دیا گیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے انتخابی مینڈیٹ حاصل کرنے کے دعوے کیے تھے۔

نیتن یاہو نے دائیں بازو کی مضبوط حکومت بنانے پر زور دیا ہے، جبکہ گادی آئزن کوٹ کا کہنا ہے کہ عوام نے طویل عرصے سے وزیراعظم رہنے والے نیتن یاہو کو مسترد کر دیا ہے۔

بدھ کی صبح اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے گزشتہ تین برس کے دوران فوجی کامیابیوں کا ذکر کیا، تاہم انہوں نے براہِ راست اپنی انتخابی کامیابی کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے یہودی اور صہیونی اکثریت کو متحد کرنے اور دائیں بازو کی مضبوط حکومت بنانے کی اپیل کی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انتخابات میں تقریباً 78 فیصد ووٹرز نے حصہ لیا، جو 1999 کے بعد سب سے زیادہ شرح ہے۔ انتخابات میں ووٹرز نے نیتن یاہو کی حکومت کی کارکردگی پر اپنی رائے دی۔ ان کے دور میں اسرائیلی سیاست مزید دائیں بازو کی جانب بڑھی، جبکہ حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیل نے متعدد محاذوں پر فوجی کارروائیاں کیں۔

نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے ایران سے لاحق خطرات ختم کرنے کے لیے مزید فوجی کارروائی کا عندیہ بھی دیا تھا۔

دوسری جانب گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ وہ اسرائیل کی سلامتی کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی وفاداری ریاست کے ساتھ ہونی چاہیے، کسی وزیراعظم کے ساتھ نہیں۔

آئزن کوٹ نے اسرائیل میں تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے اور مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ ان آبادکاروں پر فلسطینیوں کے خلاف حملوں کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

آئزن کوٹ نے دوبارہ انتخابات کرانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔ تاہم حتمی انتخابی نتائج اور مختلف جماعتوں کے درمیان ممکنہ اتحاد ہی طے کریں گے کہ اسرائیل میں نئی حکومت کس طرح تشکیل پاتی ہے۔