لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے ایسی پالیسیاں تشکیل دینا ضروری ہیں جو ملکی ضروریات سے مطابقت رکھتی ہوں اور طویل مدت میں معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد دیں، حکومت ٹیکس پالیسی کو بہتر بنانے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی ماہرین سے مشاورت کر رہی ہے، جبکہ درمیانی مدت کے لیے اصلاحاتی حکمت عملی پر بھی کام جاری ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس نظام میں بہتری معاشی اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس پالیسی کو زیادہ مؤثر بنانے، محصولات کے نظام کو مضبوط کرنے اور حکومتی مالی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم بنیادیں فراہم کی جاسکیں۔
انہوں نے سرکاری اداروں کی نجکاری کے حوالے سے بتایا کہ حکومت اس عمل کو آگے بڑھا رہی ہے اور مختلف اداروں اور سرکاری اثاثوں کو نجکاری کے دائرے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق نجکاری کا مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ کرنا اور معیشت پر حکومتی مالی بوجھ کو کم کرنے میں مدد حاصل کرنا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ نجکاری کے لیے جن اداروں پر کام جاری ہے، ان میں فرسٹ ویمن بینک، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اور دیگر سرکاری اثاثے شامل ہیں۔ اس عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے متعلقہ اداروں اور مشیروں کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں، جبکہ مختلف اداروں کے معاملات پر پیش رفت جاری ہے۔
قرضوں کے انتظام پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی قرضوں کی ادائیگی اور ان پر سود کی مد میں ہونے والے اخراجات حکومت کے لیے ایک بڑا مالی چیلنج ہیں۔ اسی تناظر میں قرضوں کے بہتر انتظام اور مالی معاملات کو منظم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ مالی دباؤ کو کم کیا جائے اور بیرونی قرضوں میں اضافے سے گریز کرتے ہوئے معاشی معاملات کو بہتر بنایا جائے۔
انہوں نے زرمبادلہ کے ذخائر کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ملکی معیشت کے لیے صرف ذخائر کی مجموعی مقدار کافی نہیں، بلکہ ان کا معیار، دستیابی اور پائیداری بھی اہمیت رکھتی ہے۔ معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنیادوں پر برقرار رکھا جائے اور برآمدات سمیت آمدن کے ذرائع میں اضافہ کیا جائے۔
وزیر خزانہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خدمات کے شعبے کو بھی معیشت کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی برآمدات میں اضافے سے ملک کے لیے زرمبادلہ حاصل کرنے کے مواقع بڑھ سکتے ہیں، جبکہ خدمات کا شعبہ بھی معاشی سرگرمیوں اور آمدن میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
علاقائی تنازع کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سب شہریوں کو یکساں سبسڈی دینے کے بجائے مستحق افراد کو ہدفی امداد فراہم کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہے، ہر شہری کو یکساں مالی معاونت کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے حکومتی وسائل کو ان افراد تک پہنچانا ضروری ہے جنہیں ریلیف کی زیادہ ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ نے معاشی اصلاحات کو ملکی مالی ذمہ داریوں، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور طویل مدتی استحکام سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں میں اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ٹیکس نظام کی بہتری، نجکاری، قرضوں کا مؤثر انتظام اور برآمدات میں اضافہ اس حکمت عملی کے اہم پہلو ہیں۔







