اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات ہورہے ہیں اور نہ ہی کوئی بات چیت طے ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے، تاہم آبنائے ہرمز کھلی اور فعال ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں موجود تمام آبی بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی شرائط پوری نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی شرائط میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، تیل پر عائد پابندیاں اٹھانا، ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنا اور تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں اور دھمکیوں کا خاتمہ شامل ہے۔

خیال رہے کہ یہ متضاد بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ امریکی صدر کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے ایک روز قبل کہا تھا کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں اور بات چیت پہلے سے زیادہ وسیع ہے۔

اب صدر ٹرمپ نے ان رابطوں کو باضابطہ مذاکرات قرار دینے سے انکار کردیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جون میں طے پانے والا عبوری معاہدہ بھی اپنی مدت پوری کرچکا ہے اور اس کے بعد مستقل جنگ بندی یا وسیع تر معاہدے پر پیش رفت نہیں ہوسکی۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ جنگ اور کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے سے گزرنے والی تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔

لازمی پڑھیں: امریکا ایران مفاہمتی یادداشت میں مذاکرات کے لیے رکھی گئی 60 روز کی ڈیڈ لائن ختم

ایران اور عمان کے درمیان بھی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے مستقبل سے متعلق بات چیت جاری ہے۔ قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یوں ایک جانب واشنگٹن آبنائے ہرمز کو کھلا قرار دے رہا ہے، جب کہ تہران اسے امریکا کی جانب سے شرائط پوری ہونے تک بند رکھنے کا اعلان کرچکا ہے۔ اس متضاد صورتحال نے خطے میں سفارتی کوششوں اور عالمی توانائی سپلائی کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال مزید بڑھا دی ہے۔