سرکاری حکام کے مطابق واقعہ پشین کے علاقے سرانان کے قریب پیش آیا، جہاں پانچ مزدوروں کی لاشیں اور ایک زخمی شخص ملا۔

پولیس کے مطابق متاثرہ افراد ضلع قلعہ عبداللہ میں انگور کے ایک باغ میں کام کر رہے تھے، جہاں سے انہیں مبینہ طور پر نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔

کوئٹہ میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلح افراد نے مزدوروں کو گزشتہ روز اغوا کرنے کے بعد فائرنگ کرکے قتل کیا۔ حملے میں پانچ افراد موقع پر ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔

پولیس کے مطابق لاشیں اور زخمی شخص پشین کے علاقے سرانان کے قریب سلیمانزئی میں پڑے ہوئے ملے، جنہیں ابتدائی طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

بعد ازاں لاشوں اور زخمی شخص کو مزید طبی کارروائی کے لیے کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔

حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق پنجاب سے ہے۔

واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم یا مسلح گروہ نے قبول نہیں کی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امن دشمن عناصر نے ایک بار پھر معصوم پاکستانیوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

صوبائی حکومت کے مطابق واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ شدت پسند مزدوروں اور مسافروں کو ’سافٹ ٹارگٹ‘ سمجھ کر حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گزشتہ جمعے کو سرانان بازار میں قائم پشین تھانے پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں پولیس اسٹیشن کی عمارت کو نقصان پہنچا تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔