ہر حکومت کا ایک "کپتانی دور" ہوتا ہے، جب وہ پہاڑ کی طرح ڈٹی رہتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ خودکشی کر لیں گے مگر قرض نہیں لیں گے۔ پھر ایک صبح آنکھ کھلتی ہے، خزانہ خالی ملتا ہے، اور وہی حکومت نہایت خاموشی سے اُسی دروازے سے داخل ہو جاتی ہے جسے کبھی حرام قرار دیا تھا۔ اس عمل کو ہم "معاشی توبہ" کہہ سکتے ہیں۔ گناہ وہی، بس نیت بدل جاتی ہے۔

شوق سے کوئی بھی ملک آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاتا ۔بڑے بڑے ملک ہیں جو مجبور ہوکر جاتے ہیں ،ساہوکار کے پاس مجبوری کیلئے انسان جاتا ہے،جب کوئی قرض دیتا ہے تو اس کی  اپنی شرائط ہوتی ہیں،آئی ایم ایف مغرب کی معاشی سیاست کو کنٹرول کرنے کا ایک ہتھیارہے، اس پر امریکا اور مغربی ملکوں کی اجارہ داری ہے۔ 

قرض لینے والے ملکوں سے نہ صرف مقامی معیشت کو کنٹرول کیا جاتا ہے بلکہ ان ملکوں کی خارجہ پالیسی پر بھی شرائط عائد کی جاتی ہیں۔ پاکستان چاہتا تو ترکی کی طرح آئی ایم ایف کو ٹھینگا دکھا سکتا تھا۔ اردگان کو تو امریکی پابندیاں نہ جھکا سکیں لیکن ہمارا ’’اردگان‘‘ سجدہ ریز ہوگیا۔ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں آئی ایم ایف سے رجوع کیا، سخت شرائط پر قرضہ لیا اور آج تک عوام اس کی سزا بھگت رہی ہے۔

اب آئی ایم ایف کی اپنی شرائط ہیں۔ وہ اپنے ہنٹر سے معاشی گھوڑا دوڑائیں گے۔ آئی ایم ایف  پاکستانی  عوام کے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑنے پر تلا ہوا ہے۔آئی ایم ایف کی تمام شرائط مانی گئیں ۔

موجودہ حکومت آئی ایم ایف کا ہر ہنٹر عوام کی پیٹھ کی طرف کررہی ہے، عوام بیچارے ہر دن مار کھاتے ہیں، پیٹھ سہلاتے ہیں اور سوجاتے ہیں۔

اب پٹرولیم لیوی کی بات کیجیے، جو ہر بجٹ میں یوں بڑھتی ہے جیسے یہ کوئی مذہبی فریضہ ہو۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ یہ "معیشت کے استحکام" کے لیے ضروری ہے، حالانکہ استحکام کہیں دور افق پر ایک سراب کی طرح چمکتا رہتا ہے، ہاتھ کبھی نہیں آتا۔ 

ہر سال لیوی کا پیسہ آئی ایم ایف کی تجوری میں جارہا ہے، گزشتہ مالی سال 15 سو ارب روپے صرف لیوی کی مد میں آئی ایم ایف اکاؤنٹ میں گئے۔ اگلے سال 17 سو ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف واقعی ولن ہے، یا وہ ساہوکار ہے جس کے پاس ہم خود چل کر جاتے ہیں، ہر بار نئے وعدوں اور پرانی عادتوں کے ساتھ؟ 

ہر حکومت سوچتی ہے کہ یہ اُس کی اپنی خودکشی نہیں بلکہ پچھلوں کی وراثت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرض کو طرزِ حکمرانی بنا لیا ہے، ہر حکومت پچھلی کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے، اور خود اُسی تختے پر لٹکنے کے لیے قطار میں کھڑی ہو جاتی ہے، بس تختے کا نام بدل جاتا ہے: کبھی منی بجٹ، کبھی پٹرولیم لیوی، کبھی "سٹرکچرل ریفارمز۔"

اور عوام؟ وہ ہر بار امید کرتے ہیں کہ شاید اگلی قسط آخری ہو، شاید اگلا حکمران واقعی مختلف ہو۔ یہ امید بھی شاید ہماری سب سے پرانی "قومی روایت" ہے۔ رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی، ایک دن۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر