ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ کی سلامتی اور دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی مستقل اجازت حاصل ہوگی، جبکہ امریکا کے مخالف یا غیر نیٹو ممالک کو جزیرے میں فوجی اڈے قائم کرنے اور حساس نوعیت کی سرمایہ کاری سے روکا جائے گا۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بیان میں کہا کہ معاہدے کی کوئی مقررہ اختتامی مدت نہیں ہوگی اور واشنگٹن کو گرین لینڈ کی سیکیورٹی سے متعلق مستقل رسائی حاصل رہے گی۔

رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق طویل عرصے سے جاری مطالبات کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ تاہم موجودہ معاہدہ گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ بنانے کے مطالبے سے مختلف ہے اور اس کے بجائے امریکی سیکیورٹی اور فوجی رسائی کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

معاہدے کی بعض تفصیلات تاحال مکمل طور پر سامنے نہیں آئی ہیں، بالخصوص یہ واضح نہیں کہ امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کے لیے گرین لینڈ میں نئے فوجی اڈے تعمیر کیے جائیں گے یا موجودہ تنصیبات اور سہولیات کو مزید وسعت دی جائے گی۔

امریکا کو گرین لینڈ میں پہلے ہی فوجی موجودگی اور رسائی کے وسیع حقوق حاصل ہیں۔ 1951 کے دفاعی معاہدے کے بعد امریکا کو جزیرے میں فوجی سرگرمیوں اور دفاعی تنصیبات کے حوالے سے اہم اختیارات حاصل رہے ہیں، جبکہ بعد کے معاہدوں میں امریکی فوجی سرگرمیوں اور مقامی حکام کے درمیان رابطہ کاری کے طریقہ کار بھی طے کیے گئے۔

گرین لینڈ میں موجود امریکی تنصیب کا موجودہ نام پٹفک اسپیس بیس ہے، جو امریکی خلائی اور دفاعی نگرانی کے لیے اہم مقام تصور کیا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

ڈنمارک کے وزیراعظم کے دفتر کے مطابق معاہدے کا مقصد شمالی بحرِ اوقیانوس اور آرکٹک خطے کی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ڈنمارک اور امریکا دونوں نیٹو کے رکن ممالک ہیں، جبکہ گرین لینڈ مملکتِ ڈنمارک کے اندر خود مختار حیثیت رکھنے والا علاقہ ہے۔

گرین لینڈ کے وزیراعظم ینس فریڈرک نیلسن نے بھی معاہدے کو جزیرے کے مفادات اور عالمی تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا۔ تاہم اس معاہدے کے نتیجے میں امریکی فوجی موجودگی کی عملی نوعیت اور ممکنہ اضافی تنصیبات سے متعلق تمام تفصیلات ابھی واضح نہیں کی گئیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ معاہدہ واشنگٹن کے گرین لینڈ سے متعلق قومی سلامتی کے خدشات کو مستقل بنیادوں پر دور کرتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق معاہدے کے تحت غیر نیٹو ممالک کو گرین لینڈ میں فوجی اڈے قائم کرنے سے روکا جائے گا جبکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو حساس نوعیت کی سرمایہ کاری اور سیکیورٹی سے متعلق سرگرمیوں میں زیادہ رسائی حاصل ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کو گرین لینڈ میں مستقل رسائی، فوجی اڈوں کے استعمال اور فضائی حدود سے متعلق حقوق حاصل ہوں گے۔ یہ انتظام گرین لینڈ کی مستقبل کی آئینی یا سیاسی حیثیت میں تبدیلی کی صورت میں بھی برقرار رکھنے کی بات کی گئی ہے۔

گرین لینڈ طویل عرصے سے امریکا، ڈنمارک اور یورپ کے درمیان جغرافیائی و تزویراتی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ آرکٹک خطے میں اس کا محل وقوع شمالی بحرِ اوقیانوس اور شمالی امریکا کے درمیان دفاعی اور مواصلاتی راستوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس نئی پیش رفت سے امریکا کو خطے میں اپنی دفاعی اور سیکیورٹی موجودگی بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے، جبکہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے لیے معاہدے کا اہم پہلو آرکٹک خطے کی سلامتی اور اتحادی تعاون کو برقرار رکھنا ہے۔ معاہدے کی مکمل شرائط اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار سامنے آنے کے بعد اس کی عملی نوعیت مزید واضح ہوگی۔