سلامتی کونسل کے بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب پر ہونے والے حملوں میں شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ کونسل نے بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے فطری حقِ دفاع کی توثیق کرتے ہوئے شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حملوں اور دھمکیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ارکان نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، بالخصوص سمندری قوانین سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کی پاسداری کریں اور بین الاقوامی بحری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنائیں۔
سلامتی کونسل نے یمن کی حکومت کے ساتھ عملی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جبکہ ملک میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی اور حوثیوں کی پیش قدمی کے نتیجے میں ستمبر کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ انسانی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں لڑائی میں شدت آئی ہے اور حوثی فورسز باب المندب کے قریب مزید علاقوں اور جزائر کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے بحیرہ احمر میں عالمی تجارتی جہاز رانی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں، کیونکہ باب المندب عالمی تجارت کا ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں سعودی عرب پر حالیہ حملوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔ اقوام متحدہ کی کارروائی کے ریکارڈ کے مطابق 14 اور 15 ستمبر کو سعودی عرب کے مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں میں 13 شہری زخمی ہوئے، جبکہ متعدد گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
اس سے قبل 8 ستمبر کو بھی سعودی عرب پر بڑے پیمانے پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جن میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور توانائی کے اہم ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ اقوام متحدہ کے اجلاس میں ان حملوں کو شہری آبادی اور اہم تنصیبات کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے، اس لیے یہاں مسلسل کشیدگی سے تجارتی جہازوں، توانائی کی ترسیل اور عالمی سپلائی چین پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یمن میں جاری تنازع کے دوران شہریوں کا تحفظ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنائی جائے۔ اقوام متحدہ کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ تازہ لڑائی پہلے سے شدید انسانی بحران کا شکار یمن میں مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
حالیہ صورتحال ایسے وقت میں سنگین ہوئی ہے جب یمن کے مغربی ساحل پر حوثیوں کی پیش قدمی اور سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب سعودی اور یمنی حکومتی فورسز کی جانب سے بھی حوثی ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے واضح کیا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے قابل تشویش ہیں، جبکہ بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی اور آزادانہ آمدورفت کا تحفظ بھی عالمی برادری کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت کسی مسلح حملے کی صورت میں رکن ممالک کے انفرادی یا اجتماعی دفاع کے فطری حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔
تازہ پیش رفت کے بعد یمن کے تنازع میں سفارتی کوششوں، شہریوں کے تحفظ اور بحیرہ احمر میں بحری سلامتی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی سطح پر فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا مطالبہ بھی سامنے آتا رہا ہے۔







