اطالوی نیوز ایجنسی ’اے این ایس اے‘ کے مطابق وزیر دفاع گائیڈو کروسیٹو نے جمعے کو بتایا کہ وہ سعودی عرب کی طائف ایئربیس کی صورت حال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، جہاں ’آپریشن انہیرنٹ ریزولو‘ کے تحت اطالوی فوجی اہلکار بھی تعینات ہیں۔

گائیڈو کروسیٹو کے مطابق جمعرات کی رات طائف ایئربیس پر ہونے والے حملے میں ایک اطالوی ایف 2000 طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول طیارہ ایئربیس کے اندر ایک نسبتاً غیر مرکزی علاقے میں موجود تھا۔

اطالوی وزیر دفاع نے کہا کہ حملے میں کوئی اطالوی فوجی اہلکار متاثر نہیں ہوا جبکہ اطالوی اہلکاروں کے زیر استعمال دیگر گاڑیوں یا انفراسٹرکچر کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات پہلے ہی نافذ کیے جاچکے تھے۔

طائف ایئربیس پر اطالوی فوجی دستے امریکا کی قیادت میں جاری ’آپریشن انہیرنٹ ریزولو‘ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد داعش کے خلاف کارروائیوں میں تعاون فراہم کرنا ہے۔

ایف 2000 اٹلی کے فضائی بیڑے میں شامل یورو فائٹر ٹائفون لڑاکا طیارے کا اطالوی نام ہے۔ یہ کثیرالمقاصد لڑاکا طیارہ فضائی دفاع سمیت مختلف فوجی آپریشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اطالوی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں حملے کے ذمہ دار کا نام نہیں لیا، تاہم حالیہ دنوں میں یمن کے حوثی جنگجو سعودی عرب میں مختلف اہداف پر ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرچکے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حالیہ دنوں میں سرحد پار حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی اور سعودی عرب کے خلاف حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں بھی پیش قدمی کی ہے، جس سے باب المندب کے قریب بحری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھے ہیں۔

دوسری جانب اٹلی نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں اپنے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے بحری کارروائی کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔

اٹلی کے وزیر دفاع گائیڈو کروسیٹو نے ایک روز قبل کہا تھا کہ اٹلی یورپی یونین کے ’آپریشن ایسپڈیز‘ کے فیصلے کا انتظار نہیں کرے گا اور اپنے جہازوں کو باب المندب سے محفوظ گزرنے میں مدد دینے کے لیے ضرورت پڑنے پر خود کارروائی کرسکتا ہے۔

کروسیٹو کے مطابق بحری راستوں کی حفاظت میں تاخیر سے اطالوی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ باب المندب عالمی تجارت کے لیے اہم بحری گزرگاہ ہے۔

طائف ایئربیس پر اطالوی طیارے کو پہنچنے والے نقصان کے بعد اطالوی وزارت دفاع نے صورت حال کا مزید جائزہ لینے اور اپنے اہلکاروں کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور شروع کردیا ہے۔