یمنی وزیر اطلاعات کے مطابق ذُباب ایئرپورٹ کو باب المندب سے ملانے والی مرکزی شاہراہ بھی حکومتی فورسز کے قبضے میں آگئی ہے، جب کہ علاقے اور میون جزیرے میں موجود حوثی فورسز کا محاصرہ کرلیا گیا ہے۔ یمنی حکومت کے مطابق مغربی ساحل پر بھی فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ تمام علاقوں کو واپس لینے اور ملک بھر میں ریاستی اختیار بحال کرنے کے لیے بڑی فوجی کارروائی شروع کردی ہے۔ اس کے بعد تعز، بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں، باب المندب اور دارالحکومت صنعاء کے محاذوں پر لڑائی میں نمایاں شدت آگئی ہے۔

یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ مسلح افواج، سیکیورٹی فورسز اور تمام فوجی فارمیشنز کو ایک منظور شدہ منصوبے کے تحت کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ ان کے مطابق کارروائی کا مقصد ملک کو حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرانا اور ریاستی اختیار بحال کرنا ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق یمنی حکومت کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی نے بتایا کہ فوج نے صنعاء کو حوثیوں سے واپس لینے کے لیے ’اسٹریٹجک‘ فوجی کارروائی شروع کردی ہے۔ ان کے مطابق کارروائی میں جدید فوجی صلاحیتیں استعمال کی جارہی ہیں۔

تازہ پیش رفت میں بریگیڈیئر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز نے باب المندب آبنائے کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور تعز گورنری کے ساحلی شہر ذُباب میں ایک قریبی ایئرپورٹ بھی دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

ان کے مطابق حکومتی فوج نے ذُباب میں ’فیصلہ کن فوجی کارروائی‘ کے بعد علاقے میں اپنا کنٹرول مضبوط کیا، جب کہ محاصرے کے دوران بعض حوثی جنگجو کشتیوں کے ذریعے فرار ہوگئے۔

یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ’العربیہ انگلش‘ کو بتایا کہ سدرن جائنٹس بریگیڈز نے ذُباب ایئرپورٹ اور اسے باب المندب سے ملانے والی مرکزی شاہراہ پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ ان کے مطابق علاقے اور میون جزیرے میں موجود حوثی فورسز کا محاصرہ کرلیا گیا ہے، جب کہ یمن کے مغربی ساحل کے باقی علاقوں کو کلیئر کرنے کے لیے فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔

یمنی حکومت کے مطابق باب المندب اور اس کے اطراف میں کارروائی اب بھی جاری ہے، تاہم حوثیوں کی جانب سے حکومتی فورسز کے بعض دعووں کی تردید بھی کی گئی ہے۔

باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے کہا ہے کہ باب المندب میں زمین، جزیروں اور تزویراتی مقامات کی بازیابی دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارت و جہاز رانی کی سلامتی سے براہِ راست جڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کی بحالی اختتام نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج نے یمنی حکومتی فورسز کی زمینی کارروائیوں کو مسلسل فضائی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران 300 سے زائد ’اہم اہداف‘ کو نشانہ بنایا جاچکا ہے اور یمنی فوج کو 24 گھنٹے فضائی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔

ترکی المالکی کے مطابق متحرک اہداف کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں، جب کہ ’آپریشن ڈان آف یمن‘ کے تحت ایک دن کی کارروائی میں 100 سے زائد جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔

یمنی حکومت کی فوج نے بھی اپنی حالیہ کارروائیوں کے بڑے پیمانے پر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق صعدہ، الجوف اور تعز سمیت مختلف علاقوں اور یمن کے مغربی ساحل پر 1122 فوجی کارروائیوں کے دوران 1747 حوثی جنگجوؤں کو ’غیر مؤثر‘ کیا گیا، جب کہ توپ خانے، راکٹوں کے ٹھکانوں، دفاعی تنصیبات، سپلائی لائنز، کمک اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان کے مطابق فضائی حملوں، ڈرونز، توپ خانے، میزائلوں اور اسنائپرز کے استعمال کے دوران 364 فوجی اور لاجسٹک گاڑیاں بھی تباہ یا ناکارہ بنائی گئیں۔ تاہم ان ہلاکتوں اور فوجی نقصان کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔