ترکی المالکی نے کہا کہ یہ کارروائی قواعدِ اشتباک کے مطابق کی گئی اور میزائل کو کسی نقصان کے بغیر فضا میں تباہ کردیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اتحادی فورسز صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور شہریوں، اہم تنصیبات اور مملکت کی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے بیش، طائف، فرسان اور ینبع میں بھی شہریوں اور سول انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی حوثی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔
ترکی المالکی نے کہا کہ 80 لاکھ سے زائد آبادی والے شہر ریاض میں شہریوں اور سول انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی مسلسل کوششیں حوثی ملیشیا کی ہٹ دھرمی اور شہری علاقوں کو دانستہ نشانہ بنانے کو ظاہر کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد کی قیادت کو حوثیوں کے مزید حملے روکنے کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون اور اصولوں کے مطابق ہر وہ اقدام کرنے کا حق ہے جو وہ مناسب سمجھے۔
اس سے قبل سنیچر کی صبح سعودی سول ڈیفنس نے ریاض اور الخرج میں ممکنہ خطرے کے دو الرٹس جاری کیے، تاہم کچھ دیر بعد خطرہ ٹل جانے کا اعلان کیا گیا۔
یاد رہے کہ یہ صورتحال مملکت کے خلاف ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے حملوں میں شدت آنے پر پیش آئی ہے۔ پہلا الرٹ سعودی وقت کے مطابق صبح 2 بج کر 58 منٹ پر جاری کیا گیا۔ عینی شاہدین نے ریاض میں کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، جس کے چند منٹ بعد خطرہ ٹل جانے کا اعلان جاری کردیا گیا۔
مملکت کے جنوب مغرب میں واقع جزائر فرسان میں بھی اسی طرح کا ایک الرٹ جاری کیا گیا، اگرچہ اس خطرے کی نوعیت کے بارے میں فوری طور پر وضاحت نہیں کی گئی۔
ریاض اور الخرج میں دوسرا الرٹ صبح 5 بج کر 19 منٹ پر جاری کیا گیا۔ سول ڈیفنس نے 10 منٹ بعد خطرہ ختم ہونے کا اعلان کیا۔
سول ڈیفنس نے جمعے کو بھی مملکت کے کئی علاقوں میں الرٹس جاری کیے تھے۔ ان میں مکہ ریجن میں جدہ اور طائف، عسیر ریجن میں خمیس مشیط اور مدینہ ریجن میں العلا شامل ہیں۔ جمعرات کو طائف میں حوثی ڈرون کا ملبہ گرنے سے ایک یمنی شہری ہلاک، جبکہ ایک سعودی خاتون اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوا۔ کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
دو دن قبل سعودی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے حوثی باغیوں کے ایک ڈرون کو تباہ کردیا۔
سعودی حکام نے حملے کی کوشش کو کشیدگی میں ایک خطرناک اضافہ قرار دیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔







