انتونیو گوتیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ جوہری تجربات کے تباہ کن اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات آنے والی نسلوں اور معاشروں کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ جوہری تجربات عالمی سطح پر عدم اعتماد کو بڑھاتے ہیں اور ایسے ماحول کو جنم دیتے ہیں جس میں ممالک اپنی جوہری صلاحیتوں میں اضافے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے جوہری ہتھیار رکھنے والے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور جوہری تجربات کے دوبارہ آغاز کے امکانات کو ختم کریں۔

انتونیو گوتیرس کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور جوہری تجربات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں، عالمی امن کا تحفظ اسی صورت ممکن ہے جب ممالک باہمی اعتماد، مذاکرات اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کو ترجیح دیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے جوہری تجربات کو معاشروں کے ساتھ ناانصافی اور غداری کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو مستقبل کی نسلوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ جوہری تجربات کے خاتمے کے اپنے عزم کی دوبارہ توثیق کریں اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

انتونیو گوتیرس نے کہا کہ جوہری تجربات پر عالمی پابندی کو مضبوط بنانا بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے اہم قدم ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ممالک کو جوہری ہتھیاروں کی تعداد اور ان کے استعمال کے خطرات کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال میں جوہری خطرات کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون پہلے سے زیادہ ضروری ہے، دنیا کو تنازعات اور مسابقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے اختلافات حل کرنے کی طرف بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ جوہری تجربات کے خاتمے کے لیے کیے گئے وعدوں کو محض بیانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

انتونیو گوتیرس نے ایک مرتبہ پھر عالمی ممالک پر زور دیا کہ وہ جوہری تجربات کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کریں تاکہ عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کم کیے جاسکیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ دنیا کی بنیاد رکھی جاسکے۔