حالیہ تباہی نے نیپال کے شمالی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو متاثر کیا ہے، کئی سڑکیں اور پل سیلابی ریلوں میں بہہ گئے جبکہ بجلی کے نظام اور آبادی والے علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے ساتھ ساتھ دریاؤں کے بہاؤ کے ساتھ بہہ جانے والے متاثرین کی لاشیں بھی تلاش کر رہی ہیں۔
حکام کے مطابق قدرتی آفت کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے کیونکہ بعض علاقوں تک زمینی راستوں سے پہنچنا انتہائی مشکل ہے۔ فوج اور پولیس کے اہلکار ہیلی کاپٹروں، بھاری مشینری اور سرچ ڈاگز کی مدد سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

نیپال میں دریائے تریشولی کے قریب ایک ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے بھی امدادی کارروائی جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 350 افراد کو سرنگ سے نکالا جا چکا ہے، جبکہ مزید 100 کے قریب افراد کو بحفاظت باہر لانے کے لیے نیپالی فوج کی ٹیمیں کوششیں کر رہی ہیں۔
ریسکیو حکام کو دشواری کا سامنا اس لیے بھی ہے کہ شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکوں اور پلوں کا بڑا حصہ تباہ ہوچکا ہے، جس سے امدادی سامان اور مشینری متاثرہ علاقوں تک پہنچانا مشکل ہوگیا ہے۔
نیپال سے متصل چین کے تبت خودمختار علاقے میں بھی سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ گیارونگ کاؤنٹی کے سرحدی علاقے میں 558 افراد لاپتہ ہیں جبکہ تین ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ لاپتہ افراد میں 260 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

گیارونگ بارڈر کراسنگ اور اس کے اطراف میں کیچڑ، پتھروں اور ملبے نے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ اہم سڑکوں اور نیپال-چین رابطے کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
قدرتی آفت کے بعد غیر ملکی سیاحوں اور مسافروں کی ایک بڑی تعداد سے بھی رابطہ منقطع ہوا ہے۔ حکام کے مطابق لاپتہ افراد میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں، جن میں بھارت، امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا کے شہری بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے سیاحوں اور زائرین کی آمدورفت کے اہم راستوں میں شامل ہیں، جس کے باعث مختلف ممالک کی حکومتیں اپنے شہریوں کی خیریت جاننے اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
امدادی کارروائیوں کے دوران ایک اور خطرے نے حکام کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں کا راستہ ملبے سے بند ہونے کے باعث بعض مقامات پر عارضی جھیلیں بن گئی ہیں، جن میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے سے اچانک سیلابی ریلے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
چینی اور نیپالی حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ممکنہ نئے سیلاب سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں خطرے کے باعث امدادی سرگرمیوں کو بھی عارضی طور پر روکنا پڑا ہے۔

یاد رہے کہ ہمالیائی خطے میں برفانی تودوں کے کھسکنے، شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ موجودہ تباہی نے ایک بار پھر اس پہاڑی خطے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مؤثر پیشگی نظام اور ہنگامی منصوبہ بندی کی ضرورت کو اجاگر کردیا ہے۔
دوسری جانب ریسکیو ٹیمیں خراب موسم، دشوار گزار راستوں اور ملبے کے باوجود تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار امدادی کارروائیوں کے دوران تبدیل ہوسکتے ہیں۔







