89 سالہ بادشاہ ہیرالڈ پنجم جمعہ کو اوسلو یونیورسٹی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ وہ تقریباً 35 سال تک ناروے کے بادشاہ رہے اور یورپ کے معمر ترین حکمران تھے۔ ان کے انتقال کے بعد 53 سالہ ولی عہد ہاکون ناروے کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں۔

ناروے کے شاہی محل میں ہونے والے خصوصی اجلاس میں ہیرالڈ پنجم کے انتقال کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جس کے بعد ہاکون کا نیا شاہی منصب بھی سامنے آیا۔ نئے بادشاہ نے اپنے والد کا ذاتی شعار ’آل فار ناروے‘ برقرار رکھا ہے۔

بادشاہ بننے کے بعد اپنے پہلے بیان میں ہاکون نے ناروے کے عوام کا شاہی خاندان کے لیے حمایت اور ہمدردی پر شکریہ ادا کیا۔

شاہی خاندان کو کن اسکینڈلز کا سامنا ہے؟

ہاکون کے تخت سنبھالنے کے وقت ناروے کے شاہی خاندان کو دو بڑے تنازعات کا سامنا ہے۔ ایک ان کی اہلیہ اور نئی ملکہ میٹے میریٹ کا بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے رابطہ، جب کہ دوسرا ان کے سوتیلے بیٹے ماریئس بورگ ہوبی کا ریپ کیس ہے۔

میٹے میریٹ نے 2001 میں ہاکون سے شادی کی تھی۔ ان کی سابقہ زندگی اور ایک غیر شاہی شخص سے تعلق سے پیدا ہونے والے بیٹے کی وجہ سے اس وقت بھی ان کی شاہی خاندان میں شمولیت پر بحث ہوئی تھی، تاہم وقت کے ساتھ انہوں نے عوام میں خاصی مقبولیت حاصل کرلی۔

حالیہ برسوں میں جیفری ایپسٹین سے متعلق سامنے آنے والی دستاویزات نے ایک بار پھر میٹے میریٹ کو تنازع میں مبتلا کردیا۔ دستاویزات کے مطابق انہوں نے ایپسٹین سے رابطہ رکھا اور اسے ایسے پیغامات بھی بھیجے جن پر بعد میں انہیں وضاحت دینا پڑی۔

میٹے میریٹ نے اعتراف کیا کہ ایپسٹین سے رابطہ رکھنا ان کی غلطی تھی اور کہا کہ انہیں اس پر افسوس ہے،انہیں ایپسٹین کی جانب سے گمراہ اور متاثر کیا گیا۔

سوتیلے بیٹے کو ریپ کیس میں سزا

دوسری جانب ہاکون کی اہلیہ کے بیٹے ماریئس بورگ ہوبی کو رواں سال جون میں ریپ اور گھریلو تشدد کے مقدمے میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔

29 سالہ ہوبی پر چار خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ عدالت نے دو ریپ الزامات میں اسے مجرم قرار دیا جبکہ دو دیگر الزامات سے بری کردیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے ناروے کے سفیر کو ڈی مارش کر دیا، وجہ کیا بنی؟

ہوبی ہاکون اور میٹے میریٹ کا مشترکہ بیٹا نہیں اور نہ ہی وہ ناروے کے تخت کی جانشینی کی قطار میں شامل ہے۔

میٹے میریٹ کی بیماری بھی شاہی خاندان کے لیے چیلنج

میٹے میریٹ ایک دائمی پلمونری فائبروسس کا شکار ہیں اور ان کی صحت بھی شاہی خاندان کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ بیماری بگڑنے کے بعد وہ علاج اور پھیپھڑوں کی پیوندکاری کے مرحلے سے گزری ہیں اور عارضی طور پر شاہی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹی ہیں۔

شاہی امور کے ماہرین کے مطابق ان کی غیر موجودگی نے عوام میں ان کے لیے ہمدردی پیدا کی ہے، تاہم ایپسٹین تنازع کے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

ہاکون سے شاہی خاندان کی ساکھ بحال کرنے کی توقع

تجزیہ کاروں کے مطابق بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی موت ممکنہ طور پر شاہی خاندان کے لیے عوامی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کا موقع بھی بن سکتی ہے۔

ناروے کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بادشاہ کی وفات کے بعد قومی سوگ اور عوامی اتحاد کا ماحول نئے بادشاہ اور ملکہ کو اپنے کردار مضبوط کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ہاکون کو ایک نسبتاً جدید اور عوام کے قریب رہنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے ناروے کی رائل نارویجن نیول اکیڈمی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے سیاسیات میں بیچلر ڈگری حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا ناروے کے وزیراعظم کو خط: ’اب میں صرف امن کا قائل نہیں، گرین لینڈ حاصل کرنے کا وقت آ گیا‘

ہاکون نے ماضی میں شاہی خاندان سے باہر عام زندگی گزارنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا اور بتایا تھا کہ نوجوانی میں انہیں شاہی حیثیت کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا سامنا کرنا مشکل لگتا تھا۔

اب ناروے کی تخت نشینی میں اگلا نمبر کس کا ہے؟

ہاکون کے بادشاہ بننے کے بعد ان کی 22 سالہ بیٹی شہزادی انگرڈ الیگزینڈرا ناروے کے تخت کی نئی ولی عہد بن گئی ہیں۔ وہ مستقبل میں ناروے کی ملکہ بنیں گی اور ان کی تخت نشینی کی صورت میں وہ ملک کی کئی صدیوں بعد آنے والی خاتون حکمران ہوں گی۔

ہاکون کے بعد ان کا بیٹا شہزادہ سورے میگنس اور پھر ان کی بہن شہزادی مارتھا لوئس جانشینی کی فہرست میں شامل ہیں۔

تاج پوشی نہیں ہوگی

ہاکون کے بادشاہ بننے کے بعد برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کی طرح باقاعدہ تاج پوشی کی تقریب نہیں ہوگی۔ تاہم ناروے میں ایک مذہبی تقریب کا انعقاد کیا جاسکتا ہے جس میں شاہی تاج نیداروس کیتھیڈرل میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا، لیکن بادشاہ اسے سر پر نہیں پہنیں گے۔

لازمی پڑھیں: ناروے کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سے ملاقات؛ 'پاکستان نے خطے اور عالمی امن کے لیے بہترین کردار ادا کیا'

نئے بادشاہ آنے والے دنوں میں ناروے کی پارلیمنٹ میں حلف اٹھائیں گے، جب کہ بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی آخری رسومات اوسلو کے کیتھیڈرل میں ادا کی جائیں گی۔

ماہرین کے مطابق ہاکون کے سامنے سب سے بڑا چیلنج صرف شاہی خاندان کی قیادت سنبھالنا نہیں بلکہ اسکینڈلز سے متاثرہ شاہی ادارے پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا اور اسے نئی نسل کے لیے مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔