یوکرینی حکام کے مطابق جمعہ کی صبح کیف اور اس کے مضافاتی علاقوں میں روسی ڈرون حملوں کے باعث فضائی حملوں کے سائرن مسلسل گونجتے رہے۔
کیف کے گورنر تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ دارالحکومت کے باہر ایک شخص ہلاک ہوا جب کہ 14 گوداموں، 16 گھروں اور تین اپارٹمنٹ عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روسی حملوں کا مقصد لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کرنا اور دارالحکومت کے معمولات میں خلل ڈالنا ہے۔
یوکرین کے نیشنل سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس کونسل کے ماتحت سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈس انفارمیشن کے سربراہ آندری کووالینکو نے دعویٰ کیا کہ روس چھوٹی تعداد میں جیٹ انجن سے چلنے والے ڈرونز کی لہریں بھیج رہا ہے تاکہ کیف کو مفلوج کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ روسی حملوں کا مقصد یوکرین کے فضائی دفاعی نظام اور شہری آبادی کو مسلسل دباؤ میں رکھنا اور انہیں تھکا دینا ہے۔
یوکرین کی اسٹیٹ ایمرجنسی سروس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیف ریجن پر 38 مرتبہ حملے کیے گئے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان علاقوں کے قریب نہ جائیں جہاں فائر فائٹرز اب بھی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔
روسی حملوں میں یوکرین کی بڑی نجی کورئیر کمپنی نووا پوسٹا کے کیف کے قریب اور شمالی شہر سومی میں موجود سامان کی ترسیل اور چھانٹی کے مراکز بھی تباہ ہوئے۔
اس کے علاوہ کیف ریجن میں ایک بڑے بک ریٹیلر کا گودام بھی روسی ڈرون حملے میں تباہ ہوگیا، جہاں سے روزانہ ہزاروں کتابیں صارفین تک پہنچائی جاتی تھیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق روسی حملوں کا سلسلہ جمعرات کو ہونے والے بڑے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد بھی جاری رہا۔ ایک روز قبل ہونے والے حملوں کے باعث مختلف علاقوں میں ٹرین سروس متاثر ہوئی اور مسافروں کو طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
یوکرین کی ریاستی ریلوے کے مطابق ٹرینوں کی تاخیر میں بتدریج کمی آ رہی ہے، تاہم مسلسل فضائی حملوں اور سائرن کے باعث معمولات زندگی مزید کم از کم ایک دن متاثر رہنے کا خدشہ ہے۔
یوکرینی وزارت خارجہ کے مطابق جمعرات کو کیف تقریباً 15 گھنٹے تک فضائی حملے کے الرٹ میں رہا۔
مزید پڑھیں: یوکرین کا روس پر رواں سال کا سب سے بڑا فضائی حملہ، 6 افراد ہلاک
جنوب مشرقی شہر زاپوریژیا میں بھی روسی ڈرون نے بڑے ہوم امپروومنٹ اسٹور ’ایپیسینٹر‘ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد زخمی ہوگئے۔
علاقائی گورنر ایوان فیودوروف کے مطابق حملے کے بعد اسٹور کے تقریباً 2 ہزار مربع میٹر رقبے میں آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پانے کے لیے امدادی کارروائیاں کی گئیں۔
شمال مشرقی شہر خارکیف میں بھی روسی فورسز نے ایک شاپنگ سینٹر کو نشانہ بنایا۔ شہر کے میئر ایہور تیریخوف کے مطابق دو روز کے دوران یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ ہے۔
یوکرین کے جنوبی شہر کھیرسون میں بھی روسی ڈرون حملوں میں شدت آگئی ہے۔ جمعہ کو ایک روسی ڈرون حملے میں 61 سالہ شخص شدید زخمی ہوا، جو بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گیا، جبکہ ایک دوسرے ڈرون حملے میں تین افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
کھیرسون کے علاقائی گورنر اولیکساندر پروکوڈین نے شہریوں، بالخصوص بچوں والے خاندانوں اور بزرگ افراد، کو شہر چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کھیرسون میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی مشکل ہوچکی ہے اور شہر کو مستقبل میں طویل عرصے تک بجلی اور ہیٹنگ کی سہولت سے محروم رہنے کا خطرہ ہے۔
کھیرسون کے کمبائنڈ ہیٹ اینڈ پاور پلانٹ کو جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب روسی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ یوکرین کی سرکاری توانائی کمپنی نفتوگاز کے مطابق پلانٹ پر چار گائیڈڈ ایئر بم گرائے گئے، جس کے نتیجے میں بجلی اور حرارت پیدا کرنے والا باقی تمام اہم سامان تباہ ہوگیا اور پلانٹ ناقابلِ استعمال ہوگیا۔
گورنر پروکوڈین نے خبردار کیا کہ شہریوں کو صرف چند گھنٹوں یا دنوں کے لیے نہیں بلکہ طویل عرصے تک بجلی اور حرارت کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق جولائی کے آغاز سے اب تک روس نے کھیرسون ریجن پر تقریباً 170 گائیڈڈ ایئر بم گرائے ہیں، جو رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ہونے والے حملوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔
روس اور یوکرین نے حالیہ ہفتوں میں ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ دونوں جانب سے فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ توانائی، لاجسٹکس، گوداموں اور بڑے کاروباری مراکز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس کا یوکرین پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ، دو بچوں سمیت 6 افراد ہلاک
یوکرین نے حالیہ عرصے میں روسی آئل ریفائنریز، توانائی تنصیبات اور لاجسٹک مراکز پر متعدد ڈرون حملے کیے ہیں، جب کہ روسی آن لائن ریٹیل کمپنیوں کے گودام بھی یوکرینی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔
یوکرین کے مطابق یہ حملے ایک دوسرے کی معیشت اور جنگی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
خیال رہے کہ کھیرسون پر حملوں میں شدت ایسے وقت میں آئی ہے جب گزشتہ برس بھی روسی حملوں کے نتیجے میں یوکرین کے بجلی اور حرارتی نظام کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس سے ملک کے مختلف علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ اور سردیوں کے دوران حرارت کی قلت پیدا ہوئی تھی۔







