عالمی خبررساں ادارے کے مطابق حادثہ کیمرون کی سرحد کے قریب پیش آیا۔ مقامی سرکاری اہلکار کے مطابق منگل کی دوپہر اچانک کان کے مقام پر زمین کا ایک بڑا حصہ کھسک گیا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود کان کن اور دیگر افراد ملبے تلے دب گئے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کان کے مقام پر اچانک ڈھلوان گر گئی، جبکہ وہاں موجود افراد جان بچانے کے لیے بھاگتے دکھائی دیے۔

کیمرون کے سرحدی قصبے گاروآ بولائی کے میئر آدمو عبدون نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ اب تک ملبے سے 107 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، تاہم امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد اور زخمیوں کو بابوآ کے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جو کان کے مقام سے تقریباً 50 کلومیٹر دور واقع ہے۔

کیمرون کے مشرقی علاقے کے گورنر گریگوار موونگو نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم تین کیمرونی شہری بھی شامل ہیں۔ ان کی لاشیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو منتقل کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب وسطی افریقی جمہوریہ کے حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کان میں موجود زیرِ زمین متعدد سرنگیں منہدم ہونے کے باعث زمین کھسکنے کا واقعہ پیش آیا۔

حادثے میں متاثر ہونے والا علاقہ دستی کان کنی کے لیے جانا جاتا ہے، جہاں معدنیات نکالنے کے لیے بڑی حد تک انسانی محنت استعمال کی جاتی ہے۔ اس علاقے میں کان کنی بہت سے خاندانوں کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے، تاہم کان کن اکثر غیر محفوظ حالات میں کام کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کانوں کے دھنسنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات اس خطے میں غیر معمولی نہیں، جہاں کان کنی کے گڑھوں اور سرنگوں کو مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ شدید بارشیں بھی زمین کو کمزور کرکے ایسے حادثات کے خطرے میں اضافہ کرتی ہیں۔