میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ فوجی اور بحری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے جاری روسی آپریشنز کا حصہ تھا۔
روسی فوجی کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں 6 اگست کی شام سے 7 اگست کی صبح کے درمیان انتہائی درستگی کے ساتھ انجام دی گئیں۔
وزارتِ دفاع کے مطابق روسی افواج نے خطے میں یوکرین کی مسلح افواج کی معاونت کرنے والے بحری جہازوں اور دیگر بحری اہداف کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔
بیان میں کہا گیا کہ روسی افواج یوکرین کی جانب سے فوجی سازوسامان اور گولہ بارود کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی سمندری سپلائی اور لاجسٹک لائنوں کو منقطع کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
روسی وزارتِ دفاع کے مطابق ماسکو اپنی بحری کارروائیوں میں ڈرون ٹیکنالوجی پر بھی تیزی سے انحصار کر رہا ہے تاکہ اہداف کو زیادہ درستگی سے نشانہ بنایا جا سکے اور اپنے جنگی جہازوں کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں کے بعد بحیرۂ اسود میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جو نہ صرف عسکری اعتبار سے بلکہ عالمی اناج کی تجارت اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے بھی ایک اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ہے۔







