یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملوں کے بعد کہا کہ اگر اتحادی ممالک بروقت مزید فضائی دفاعی نظام اور میزائل انٹرسیپٹرز فراہم کرتے تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ ان کے مطابق اینٹی بیلسٹک دفاعی نظام کی فراہمی میں تاخیر خوفناک جانی نقصان اور وسیع تباہی کا باعث بن رہی ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق بدھ کی علی الصبح ہونے والے حملوں میں رہائشی عمارتیں، ریلوے اسٹیشن اور گودام بھی نشانہ بنے۔ کیئو کے میئر ویتالی کلِچکو کا کہنا ہے کہ متعدد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں، جبکہ خدشہ ہے کہ کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے حملے میں 24 بیلسٹک میزائل، چار اینٹی شپ میزائل اور 115 ڈرون استعمال کیے۔ فضائی دفاعی نظام نے 98 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا، تاہم کسی بھی بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ حملوں کا ہدف کیئو اور اس کے اطراف موجود لاجسٹک مراکز، اسلحہ کے ذخائر اور ڈرونز کی تیاری و ترسیل سے متعلق تنصیبات تھیں۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق بحیرہ اسود میں اوڈیسا کی بندرگاہ کے قریب تین مال بردار جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن کے بارے میں روس کا دعویٰ ہے کہ وہ فوجی سازوسامان اور اسلحہ منتقل کر رہے تھے۔
ادھر روس کے علاقے تولا میں گورنر دمتری ملیایف کے مطابق ایک ڈرون ای کامرس کمپنی وائلڈ بیریز کے گودام سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی اور ایک شخص زخمی ہوا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ گودام کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں روس نے کیئو پر حملوں میں شدت پیدا کی ہے، جب کہ یوکرین بھی روسی علاقوں میں ڈرون حملے بڑھا رہا ہے اور توانائی سمیت مختلف اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
دریں اثنا یوکرین نے خیرسون میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، جس میں ایک شخص کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا۔ یوکرینی حکام نے اسے شہریوں کے خلاف دانستہ حملہ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین دونوں ایک دوسرے پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ ان کے حملوں کا ہدف صرف فوجی تنصیبات ہوتی ہیں۔







