امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران تقریباً 2.3 کھرب ڈالر خرچ کیے، تاہم طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان عالمی توجہ اور بین الاقوامی امداد سے بڑی حد تک محروم ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کو اس وقت انسانی اور قدرتی بحرانوں کے امتزاج کا سامنا ہے۔ ملک کی تقریباً 45 فیصد آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ بین الاقوامی امداد میں نمایاں کمی کے باعث لاکھوں افراد، خصوصاً خواتین اور بچے، شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
امریکا کبھی افغانستان کے لیے امداد کا سب سے بڑا ذریعہ تھا، تاہم اب وہ افغانستان کو امداد دینے والے سرفہرست پانچ ممالک میں بھی شامل نہیں ہے۔
لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی
افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ یونیسکو کے مطابق تقریباً 24 لاکھ افغان لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں اور پابندیوں کے باعث ایک پوری نسل سیکنڈری تعلیم سے محروم ہو رہی ہے۔
خواتین پر ملازمتوں کے حوالے سے بھی پابندیاں عائد ہیں، جبکہ انہیں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے اور طویل سفر کے لیے مرد سرپرست کی موجودگی کا پابند کیا گیا ہے۔
یو این ویمن کے مطابق تقریباً نصف افغان خواتین اب مہینے میں صرف ایک یا دو مرتبہ گھر سے باہر نکلتی ہیں، جبکہ 10 میں سے 7 خواتین اپنی ذہنی صحت کو خراب یا بہت خراب قرار دیتی ہیں۔
خواتین پر تشدد اور کم عمری کی شادی
سی این این کے مطابق افغانستان میں خواتین پر تشدد اور کم عمری کی شادی کے حوالے سے بھی صورتحال تشویش ناک ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے جاری کیے گئے بعض احکامات نے خواتین کے تحفظ اور شادی کی قانونی عمر سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال نے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات کم عمری کی شادی کو فروغ دے سکتے ہیں۔
انسانی امداد میں بڑی کمی
افغانستان میں 2022 کے بعد مجموعی انسانی امداد میں تقریباً 70 فیصد کمی آئی ہے۔ یو این ویمن کے مطابق ملک میں ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد خواتین اور لڑکیاں انسانی امداد پر انحصار کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے جائزے میں شامل خواتین کے زیر انتظام نصف سے زیادہ تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر امداد میں کمی جاری رہی تو انہیں آئندہ ایک سال کے دوران اپنا کام بند یا معطل کرنا پڑ سکتا ہے۔
بچوں پر بحران کے شدید اثرات
افغانستان میں جاری انسانی بحران سے بچے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ سیو دی چلڈرن کے مطابق ملک میں تقریباً ہر 10 میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔
یونیسیف کے مطابق رواں سال ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد افغان بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی، جبکہ امداد میں کمی کے باعث تقریباً 600 صحت کے مراکز بند ہوچکے ہیں۔
افیون کی پیداوار میں کمی، نئی منشیات کا خدشہ
طالبان نے 2022 میں پوست کی کاشت پر پابندی عائد کردی تھی، جس کے بعد افیون کی پیداوار میں تقریباً 95 فیصد کمی ہوئی۔ تاہم اس پابندی نے دیہی خاندانوں کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ختم کردیا اور اس کا مؤثر معاشی متبادل سامنے نہیں آسکا۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افیون کی معیشت میں پیدا ہونے والے خلا کو میتھ ایمفیٹامین جیسی مصنوعی منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ تیزی سے پُر کر رہی ہے۔
غیر ملکی امداد اور منجمد اثاثے
امریکی انخلا سے قبل افغانستان کے سرکاری اخراجات کا تقریباً تین چوتھائی حصہ غیر ملکی امداد سے پورا ہوتا تھا۔ طالبان کی واپسی کے بعد یہ مالی معاونت بڑی حد تک ختم ہوگئی، جبکہ طالبان حکومت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے باعث افغان مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے اثاثے امریکا اور اس کے اتحادیوں نے منجمد کر رکھے ہیں۔
مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات میں ان اثاثوں کی بحالی ایک اہم معاملہ ہے، تاہم لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں اب بھی بنیادی رکاوٹوں میں شامل ہیں۔
سیکیورٹی اور عالمی تعلقات
سی این این کے مطابق طالبان کے زیر انتظام افغانستان میں کمزور اداروں اور بڑھتی ہوئی غربت کے باعث بعض علاقوں میں قانون کی عمل داری کمزور ہے، جبکہ داعش خراسان اور القاعدہ جیسے گروہ اب بھی سرگرم ہیں۔
روس اور چین کے علاوہ کسی بھی اہم ملک نے طالبان حکومت کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے۔ روس نے گزشتہ سال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا، جبکہ چین نے دسمبر 2023 میں طالبان حکومت کے لیے اپنا سفیر مقرر کیا تھا۔
امریکا نے 2001 میں افغانستان پر حملے کے بعد دہشت گردی کے خاتمے، جمہوری نظام کے قیام، خواتین کے حقوق اور تعلیم کے تحفظ اور منشیات کے خاتمے سمیت متعدد اہداف مقرر کیے تھے۔
تاہم امریکی انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال بعد افغانستان اب بھی بھوک، غربت، غذائی قلت، بنیادی سہولیات کی کمی اور انسانی حقوق کی پابندیوں جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔
افغانستان کی تعمیر نو کے لیے امریکا کے سابق خصوصی انسپکٹر جنرل جان سوپکو نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر مستقبل میں امریکا کو یوکرین، ایران یا کسی دوسرے تنازع میں اتحادیوں کی مدد درکار ہوئی تو افغانستان کے ساتھ کیے گئے سلوک کے بعد دیگر ممالک واشنگٹن پر کتنا اعتماد کریں گے۔
ان کے مطابق افغانستان کی موجودہ صورتحال عالمی برادری کے لیے اس بات کا بڑا امتحان ہے کہ وہ طالبان حکومت اور افغان عوام کے ساتھ مستقبل میں کس طرح کے تعلقات اختیار کرتی ہے۔







